حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 561
حیات احمد ۵۶۱ جلد دوم حصہ سوم حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ۲۶۲۲۰ خاکسار غلام احمد - از قادیان ضلع گورداسپورہ۔پنجاب ۱۰ جولائی ۱۸۸۸۔یہ اشتہار کے آٹھ صفحوں پر ہے )۔( مطبوعہ ریاض ہندا مرتسر) تبلیغ رسالت جلد اصفحہ ۱۱۱ تا ۱۱۸۔مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۱۳۳ تا ۱۳۸۔بار دوم ) تتمہ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء اشتہار مندرجہ عنوان کے صفحہ ۶ میں جو یہ الہام درج ہے۔فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ - اس کی تفصیل مکرر توجہ سے یہ کھلی ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے کنبے اور قوم میں سے ایسے تمام لوگوں پر کہ جو اپنی بے دینی اور بدعتوں کی حمایت کی وجہ سے پیشگوئی کے مزاہم ہونا چاہیں گے اپنے قہری نشان نازل کرے گا۔اور اُن سے لڑے گا اور انہیں انواع اقسام کے عذابوں میں مبتلا کر دے گا۔اور وہ مصیبتیں ان پر اتارے گا۔جن کی ہنوز انہیں خبر نہیں۔ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہوگا۔جو اس عقوبت سے خالی رہے کیونکہ انہوں نے نہ کسی اور وجہ سے بلکہ بے دینی کی راہ سے مقابلہ کیا۔ایک عرصہ سے یہ لوگ جو میرے کنبے سے اور میرے اقارب ہیں کیا مرد اور کیا عورت مجھے میرے الہامی دعاوی میں مکار اور دوکاندار خیال کرتے ہیں۔اور بعض نشانوں کو دیکھ کر بھی قائل نہیں ہوتے اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ دین اسلام کی ایک ذرہ محبت ان میں باقی نہیں رہی۔اور قرآنی حکموں کو ایسا ہلکا سا سمجھ کر ٹال دیتے ہیں۔جیسا کوئی ایک تنکے کو اٹھا کر پھینک دے۔وہ اپنی بدعتوں اور رسموں اور ننگ و ناموس کو خدا اور رسول کے فرمودہ سے ہزار درجہ بہتر سمجھتے ہیں پس حاشیہ۔مرزا نظام الدین جو کنبے کے لوگوں سے نمبر اول کا مخالف ہے ۱۵ را گست ۱۸۸۵ء کو اس کی نسبت صاف پیشینگوئی کی گئی تھی کہ اس ماہ تک ان کے اہل عیال میں سے کوئی شخص بقضاء الہی فوت ہو جائے گا یہ پیشگوئی عام طور پر شائع ہو گئی تھی۔یہاں تک کہ بعض قادیان کے آریوں کے اُس پر دستخط بھی ہو گئے تھے۔لیکن جب یہ پیشگوئی کہ جو اشتہار ۲۰ / مارچ ۱۸۸۸ء میں مفصل درج ہے۔پوری ہوئی تو نظام الدین کے دل پر اس کا ذرہ بھی اثر نہ پڑا۔اور نہ اس قادر مطلق کی طرف تو بہ اور استغفار سے رجوع کیا جو گناہوں کو معاف کرتا اور مصیبتوں کو دور کرتا اور عاجز بندوں پر رحم فرماتا ہے۔منہ