حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 562 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 562

حیات احمد ۵۶۲ جلد دوم حصہ سوم خدا تعالیٰ نے انہیں کی بھلائی کے لئے انہیں کے تقاضا سے۔انہیں کی درخواست سے اس الہامی پیشگوئی کو جو اشتہار میں درج ہے۔ظاہر فرمایا ہے تا وہ سمجھیں کہ وہ درحقیقت موجود ہے اور اس کے سوا سب کچھ بیچ ہے۔کاش وہ پہلے نشانوں کو کافی سمجھتے۔اور یقینا وہ ایک ساعت بھی مجھ پر بدگمانی نہ کر سکتے اگر ان میں کچھ نور ایمان اور کانشنس ہوتا ہمیں اس رشتہ کی درخواست کی کچھ ضرورت نہیں تھی۔سب ضرورتوں کو خدا تعالیٰ نے پورا کر دیا تھا۔اولا د بھی عطا کی اور ان میں سے وہ لڑکا بھی جو دین کا چراغ ہو گا بلکہ ایک اور لڑکا ہونے کے قریب مدت تک وعدہ دیا۔جس کا نام محموداحمد ہوگا۔اور اپنے کاموں میں اولوالعزم نکلے گا۔پس یہ رشتہ جس کی درخواست کی گئی ہے۔محض بطور نشان کے ہے۔تا خدا تعالیٰ اس کنبہ کے منکرین کو اعجوبہ قدرت دکھلا دے۔اگر وہ قبول کریں تو برکت اور رحمت کے نشان ان پر نازل کرے اور ان بلاؤں کو دفع کر دیوے جو نزدیک چلی آتی ہیں۔لیکن اگر وہ رد کریں تو ان پر قہری نشان نازل کر کے ان کو متنبہ کرے۔برکت کا نشان یہ ہے کہ اس پیوند سے دین ان کا درست ہو گا اور دنیا ان کی مِنْ كُلِّ الْوُجُوْہ صلاحیت پذیر ہو جائے گی اور وہ بلائیں جو عنقریب اترنے والی ہیں نہیں اتریں گی اور قہر کا نشان وہی ہے۔جو اشتہار میں ذکر ہو چکا۔اور نیز وہ جو تمہ ہذا میں درج ہے * وَالسَّلَامُ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ الْمُؤْمِنِيْنَ۔خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گور دسپور۔پانز دہم جولائی ۱۸۸۸ء تبلیغ رسالت جلد اصفحہ ۱۱۸ تا ۱۲۰ - مجموعه اشتہارات جلد ا صفحه ۱۴۰،۱۳۹ بار دوم ) حاشیہ :۔ان کا اس رشتہ سے بشدت انکار بھی درحقیقت اسی اپنی رسم پرستی کی وجہ سے ہے کہ وہ اپنی کسی لڑکی کا اس کے کسی غیر حقیقی ماموں سے نکاح کرنا حرام قطعی سمجھتے ہیں۔اور اگر سمجھایا جائے تو بے دھڑک کہہ دیتے ہیں کہ اسلام اور قرآن سے کچھ غرض واسطہ نہیں سو خدا تعالیٰ نے نشان بھی انہیں ایسا دیا۔جس سے ان کے دین کے ساتھ ہی اصلاح ہو اور بدعت اور خلاف شرع رسم کے بیخ کنی ہو جائے تا آئندہ اس قوم کے لئے ایسے رشتوں کے بارے میں کچھ تنگی اور حرج نہ رہے۔منہ حمید حاشیہ۔قہری نشانوں میں سے کسی قدر اشتہار ۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء میں بھی درج ہے۔اور جنوری ۱۸۸۶ء میں بمقام ہوشیار پور ایک اور الہام عربی مرزا احمد بیگ کی نسبت ہوا تھا۔جس کو ایک مجمع میں جس میں بابو الہی بخش صاحب اکونٹنٹ و مولوی برہان الدین صاحب جہلمی بھی موجود تھے۔سنایا گیا تھا