حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 560
حیات احمد جلد دوم حصہ سوم که در حالت رڈ وانکار وہ بھی اس امر کو شائع کریں۔اور گو ہم شائع کرنے کے لئے مامور تھے مگر ہم نے مصلحتا دوسرے وقت کی انتظار کی یہاں تک کہ اس کے ماموں مرزا نظام الدین نے جو مرزا امام الدین کا حقیقی بھائی ہے۔شدت غیظ و غضب میں آ کر اس مضمون کو آپ ہی شائع کر دیا۔اور شائع بھی ایسا کیا کہ شائد ایک یا دو ہفتہ تک دس ہزار مرد وعورت تک ہماری درخواست نکاح اور ہمارے مضمون الہام سے بخوبی اطلاع یاب ہو گئے ہوں گے۔اور پھر زبانی اشاعت پر اکتفا نہ کر کے اخباروں میں ہمارا خط چھپوایا اور بازاروں میں ان کے دکھلانے سے وہ خط جا بجا پڑھا گیا۔اور عورتوں اور بچوں تک اس خط کے مضمون کی منادی کی گئی۔اب جب مرزا نظام الدین کی کوشش سے وہ خط ہمارا نور افشاں میں بھی چھپ گیا اور عیسائیوں نے اپنے مادہ کے موافق بیجا افترا کرنا شروع کیا تو ہم پر فرض ہو گیا کہ اپنی قلم سے اصلیت کو ظاہر کریں۔بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔اور نیز یہ پیشگوئی ایسی بھی نہیں کہ جو پہلے پہل اُسی وقت میں ہم نے ظاہر کی ہے۔بلکہ مرزا امام الدین و نظام الدین اور اس جگہ کے تمام آریہ اور نیز لیکھرام پشاوری اور صد ہا دوسرے لوگ خوب جانتے ہیں کہ کئی سال ہوئے کہ ہم نے اسی کے متعلق مجملاً ایک پیشگوئی کی تھی یعنی یہ کہ ہماری برادری میں سے ایک شخص احمد بیگ نام فوت ہونے والا ہے۔اب منصف آدمی سمجھ سکتا ہے کہ وہ پیشگوئی اس پیشگوئی کا ایک شعبہ تھی یا یوں کہو کہ یہ تفصیل اور وہ اجمال تھی۔اور اس میں تاریخ اور مدت ظاہر کی گئی۔اور اُس میں تاریخ اور مدت کا کچھ ذکر نہ تھا۔اور اس میں شرائط کی تصریح کی گئی اور وہ ابھی اجمالی حالت میں تھی۔سمجھدار آدمی کے لئے یہ کافی ہے کہ پہلی پیشگوئی اس زمانہ کی ہے جبکہ ہنوز وہ لڑکی نابالغ تھی اور جبکہ یہ پیشگوئی بھی اسی شخص کی نسبت ہے۔جس کی نسبت اب سے پانچ برس پہلے کی گئی تھی یعنی اس زمانہ میں جبکہ اس کی یہ لڑ کی آٹھ یا نو برس کی تھی۔تو اس پر نفسانی افترا کا گمان کرنا اگر