حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 532 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 532

حیات احمد ۵۳۲ جلد دوم حصہ سوم وو بشیر احمد عرصہ تین ماہ تک برابر بیمار رہا۔تین چار دفعہ ایسی نازک حالت تک پہنچ گیا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ شاید دو چاردم باقی ہیں مگر عجیب قدرت قادر ہے کہ ان سخت خطرناک حالتوں تک پہنچا کر پھر ان سے رہائی بخشتا رہا۔اب بھی کسی قدر علالت باقی ہے۔مگر بفضلہ تعالیٰ آثار خطر ناک نہیں ہیں۔اور ایسے وقتوں کی دعا بھی عجیب قسم کی دعا ہوتی ہے، سو اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْمِنَّۃ کہ آپ ایسے وقتوں میں یاد آجاتے ہیں۔(الحکم ۱۷ اگست ۱۹۰۳ء صفحه ۳۔مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ ۶۷ مطبوعہ ٤۲۰۰۸) را ۳۔اس کے بعد پھر ایک خط تحریر فرمایا۔جس میں تحریر فرمایا :۔ایک خط روانہ خدمت کر چکا ہوں۔اب باعث تکلیف دہی یہ ہے کہ بشیر احمد میرا لڑکا جس کی عمر قریب برس کے ہو چلی ہے۔نہایت ہی لاغر اندام ہو رہا ہے ، پہلے سخت تپ محرقہ کی قسم کا چڑھا تھا۔اس سے خدا تعالیٰ نے شفا بخشی۔پھر بعد کسی قدر خفت تپ کی یہ حالت ہوگئی کہ لڑکا اس قدر لاغر ہو گیا ہے کہ استخواں ہی استخواں رہ گیا ہے۔سقوط قوت اس قدر ہے کہ ہاتھ پیر بیکار کی طرح معلوم ہوتے ہیں یا تو وہ جسم قوی ہیکل معلوم ہوتا تھا اور یا اب ایک تنکے کی طرح ہے۔پیاس بشدت ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بقیہ حرارت کا اندر موجود ہے آپ براہ مہربانی غور کر کے کوئی ایسی تجویز لکھ بھیجیں جس سے اگر خدا چاہے بدن میں قوت ہو اور بدن تازہ ہو۔اس قدر لاغری اور سقوط قوت ہو گیا ہے کہ وجود میں کچھ باقی نہیں رہا۔آواز بھی نہایت ضعیف ہو گئی ہے۔یہ بھی واضح کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ دانت بھی اس کے نکل رہے ہیں۔چار دانت نکل چکے تھے کہ یہ بیماری شیر کی طرح حملہ آور ہوئی۔اب بباعث غایت درجہ ضعف قوت اور لاغری اور خشکی بدن کے دانت نکلنے موقوف ہو گئے ہیں۔اور یہ حالت ہے ، جو میں نے بیان کی ہے۔براہ مہربانی جلد جواب سے مسرور فرماویں۔والسلام مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۶۸ مطبوعه ۲۰۰۸ء)