حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 533 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 533

حیات احمد ۵۳۳ جلد دوم حصہ سوم اس سے اُس توجہ اور شفقت اور محبت کا پتہ چل سکتا ہے کہ جو حضرت اقدس کو بشیر کی بیماری کے متعلق تھی نیز اس حالت میں آپ کس قدر دعائیں فرما رہے تھے۔حضرت اماں جان کی جو حالت ہو گی ، وہ خود بخود ہی واضح ہو جاتی ہے وہ ماں جس کا پہلا بچہ ہو۔اور جو خوبصورت بھی ہو۔اس کی ذات کے متعلق بڑی بڑی امیدیں وابستہ ہوں۔وہ ایسا سخت بیمار ہو تو اس ماں کے قلب کی کیا کیفیت ہو گی۔یہ کسی تشریح کی محتاج نہیں۔صاحبزادہ بشیر احمد اول اس شدید بیماری سے بالکل اچھا ہو گیا۔چنانچہ ۱۸ راگست ۱۸۸۸ء کو ایک خط میں حضرت مولوی صاحب کو لکھا کہ آپ کے آنے کی اب ضرورت نہیں۔اب بشیر احمد خدا کے فضل سے اچھا ہے۔اس طرح خدا تعالیٰ نے ان دعاؤں کو جو کی گئیں۔شرف قبولیت بخشا۔اور صاحبزادہ بشیر اول اچھا ہو گیا مگر اصل تقدیر جو’ مہمان“ کے الہام میں پوشیدہ تھی ، ابھی پوری ہونے والی تھی۔چنانچہ بشیر اؤل پھر بیمار ہوا۔اور۴ رنومبر ۱۸۸۸ء کو ٹھیس دن بیمار رہ کر فوت ہو گیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ نے حضرت مولوی صاحب کو جموں خط لکھا اور اس میں بشیر اول کی وفات کی اطلاع دی۔چنانچہ آپ نے تحریر فرمایا:۔وو ” میرا لڑکا بشیر احمد تمیس روز بیمار رہ کر آج بقضائے الہی رب عز و جل انتقال کر گیا إِنَّـالِـلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون اس واقعہ سے جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہوں گی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔وَإِنَّا رَاضُوْنَ بِرَضَائِهِ وَصَابِرُوْنَ عَلَى بَلَا ئِهِ يَرْضَى عَنَّا مَوْلَانَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِيْن والسلام ۱۴ نومبر ۱۸۸۸ء ترجمہ۔یقیناً ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہیں اور اسکی طرف سے آنے والی آزمائش پر صبر کرنے والے ہیں تا ہم سے ہمارا مولیٰ دنیا اور آخرت میں راضی ہو اور وہ ارحم الراحمین ہے۔(ناشر)