حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 531
حیات احمد ۵۳۱ جلد دوم حصہ سوم حضرت اقدس نے ۲۱ اگست ۱۸۸۷ء کو چودھری رستم علی صاحب کی خدمت میں لکھا کہ :۔ہمارا یہ منشاء ہے کہ کوئی باہر سے خادم آوے جو طفل نوزاد کی خدمت میں مشغول رہے۔آپ اس میں نہایت درجہ سعی فرماویں۔کہ کوئی نیک طبیعت اور دیندار خادم جو کسی قدر جوان ہومل جائے“۔مکتوبات احمد یہ جلد ۵ نمبر ۳ صفحه ۴۹۔مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۵۱۶ - مطبوعہ ۲۰۰۸ء) پھر ایک پوسٹ کارڈ ۶ ستمبر کو تحریر فرمایا۔جس میں خادمہ کی ضرورت کے متعلق لکھا:۔صرف نیک بخت اور ہوشیار اور بچہ رکھنے کے لائق ہو گھر میں تین عورتیں خدمت کرنے والی تو اسی جگہ موجود ہیں۔(مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۵۲۰ مطبوعه ۲۰۰۸ء) پھر ۲۱ ستمبر کو تحریر فرمایا : - ” اب ایک خادمہ۔محنت کش۔ہوشیار۔دانا۔دیانتدار کی اشد ضرورت ہے۔اور اس کا کام یہی ہو گا کہ لڑکا اور لڑکی دونوں کی خدمت میں مشغول رہے۔“ مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۵۲۰ مطبوعه ۲۰۰۸ء) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ گھر میں تین خادمائیں موجود تھیں مگر اس بچے اور پہلی بچی کی خدمت کے لئے ایک الگ خادمہ کی تلاش کی جارہی تھی تا کہ ان بچوں کو زیادہ سے زیادہ آرام مل سکے اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ آپ نوکرانی بھی ایسی چاہتے تھے جو نیک اور دیانتدار اور تمام اچھی صفات سے متصف ہو۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان بچوں کے متعلق کس قدر اہتمام تھا۔اور یہ بچے کیسے بابرکت تھے جو ایسے والدین کے زیر سایہ پرورش پارہے تھے۔بشیر احمد کی علالت جب بشیر احمد کی عمر ایک سال کے قریب ہوئی تو وہ سخت بیمار ہو گیا۔حضرت حکیم الامت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بعد میں خلیفہ اسیح اوّل ہوئے ، کو جموں میں مکتوب گرامی تحریر فرمایا: -