حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 478 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 478

حیات احمد جلد دوم حصہ سوم پڑھا تھا اور حضرت نے پانچ روپیہ نقد اور ایک مصلی مولوی صاحب کو دیا تھا۔۱۵ را پریل ۱۸۸۶ء کو حضرت ام المومنین نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے بطن مبارک سے پہلی اولا د (لڑکی ) پیدا ہوئی اور حضرت نے اس کا نام عصمت رکھا۔چونکہ ۱۸اپریل ۱۸۸۶ء کو آپ نے اشتہار شائع کیا تھا جب صاحبزادی عصمت کی پیدائش کی خبر عام ہوئی تو منکرین اور مخالفین نے ایک طوفان بے تمیزی برپا کر دیا۔مختلف اخباروں اور اشتہاروں کے ذریعہ خوب شور مچایا گیا ان تمام معترضین کے جواب میں حضرت نے ایک اشتہار محک اخیار و اشرارے کے عنوان سے شائع کر کے ان کے اعتراضات کا دندان شکن جواب دیا۔کچھ عرصہ تک یہ طوفان بے تمیزی ے حاشیہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ اشتہار محک اخیار و اشرار ہم نے الفت میں تری بار اٹھایا کیا کیا تجھ کو دکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا کیا ہر ایک مومن اور پاک باطن اپنے ذاتی تجربہ سے اس بات کا گواہ ہے کہ جولوگ صدق دل سے اپنے مولیٰ کریم جَلَّ شَانُه سے کامل وفاداری اختیار کرتے ہیں وہ اپنے ایمان اور صبر کے اندازہ پر مصیبتوں میں ڈالے جاتے ہیں اور سخت سخت آزمائشوں میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو بد باطن لوگوں سے بہت کچھ رنجدہ باتیں سنی پڑتی ہیں۔اور انواع اقسام کی مصائب و شدائد کو اٹھانا پڑتا ہے اور نااہل لوگ طرح طرح کے منصوبے اور رنگا رنگ کے بہتان ان کے حق میں باندھتے ہیں۔اور ان کے نابود کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔یہی عادت اللہ ان لوگوں سے جاری ہے جن پر اس کی نظر عنایت ہے۔غرض جو اس کی نگاہ میں راست باز اور صادق ہیں وہ ہمیشہ جاہلوں کی زبان اور ہاتھ سے تکلیفیں اٹھاتے چلے آئے ہیں۔سو چونکہ سنت اللہ قدیم سے یہی ہے اس لئے اگر ہم بھی خویش و بیگانہ سے کچھ آزار اٹھا ئیں۔تو ہمیں شکر بجالانا چاہئے اور خوش ہونا چاہئے کہ ہم اس محبوب حقیقی کی نظر میں اس لائق تو ٹھہرے کہ اس کی راہ میں دکھ دیئے جائیں اور ستائے جائیں۔سو اس طرح پر دکھ اٹھانا تو ہماری عین سعادت ہے۔لیکن جب ہم دوسری طرف دیکھتے ہیں کہ بعض دشمنانِ دین اپنی افترا پردازی سے صرف ہماری ایذارسانی پر کفایت نہیں کرتے بلکہ بے تمیز اور بے خبر لوگوں کوفتنہ میں ڈالتے ہیں۔تو اس صورت میں ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ حتی الوسع ان ناواقف لوگوں کو فتنہ سے بچاویں۔