حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 477
حیات احمد جلد دوم حصہ سوم اتمام حجت کا بجز صادق اور ایسے شخص کے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تازہ بتازہ وحی کے ذریعہ معرفت و بصیریت حاصل کر رہا ہو دوسرے کو نصیب نہیں ہوتا۔اس اشتہار کے نکلنے پر ان لوگوں میں سے کسی کو پھر حوصلہ اعتراض کا نہ ہوا مگر دنیا میں صادقوں کے مقابلہ کے لئے لوگ کھڑے ہوتے رہتے ہیں اسی اشتہار پر بعض دوسرے لوگوں نے اعتراض شروع کر دیا۔کسی نے کہا کہ میعاد گزرگئی اور لڑکا پیدا نہ ہوا۔کسی نے کہا کہ نو برس میعاد منسوخ ہو گئی۔جو جس کے منہ میں آیا اس نے کہا مگر آپ نے اس مخالفت اور عداوت کے طوفان کو ایک اولوالعزم انسان کی طرح سے دیکھا اور تنہا اس طوفان بے تمیزی کا مقابلہ کرتے رہے انہیں اعتراض کرنے والوں میں ہمارے ایک نہایت مخلص دوست میاں نبی بخش صاحب بھی تھے۔میاں نبی بخش کی مخالفت نیک نیتی پر تھی انہوں نے بھی حضرت اقدس کی خدمت میں ایک خط لکھا ان کے دل میں شرارت اور عداوت نہ تھی سو فہم یا سطحی خیال سے انہیں کچھ اعتراض معلوم ہوا اور انہوں نے حضرت کی خدمت میں لکھ دیا۔کچھ شک نہیں ان کے الفاظ میں کچھ مرارت اور سوء ادبی کی بھی شان نمودار ہے۔یہ ایام منشی نبی بخش صاحب کے عہد جوانی کے ایام تھے اسی جوش اور جنون میں جو ان کے قلم سے نکلا انہوں نے لکھ دیا مگر حضرت کی کریم النفسی ملاحظہ ہو کہ آپ نے گالیاں سن کر دعا دی اور لکھا کہ ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ اے خدائے قادر مطلق ان کو سمجھ عطا کر یہ شرارتوں سے کھڑے ہوتے ہیں ان کو نیکی کی توفیق دے“۔یہ دعا قبول ہو گئی اور منشی نبی بخش صاحب کو ایک مخلص خادم کی حیثیت سے حضرت کے آستانہ پر لے آئی اور خدا تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کو ایسا کھولا کہ خود انہیں بھی اپنے کلام والہام سے مشرف کیا یہ سب کچھ حضرت ہی کی دعا کا نتیجہ تھا۔صاحبزادی عصمت کی پیدائش اور طوفان بے تمیزی حضرت کی دوسری شادی جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا تھا نومبر ۱۸۸۴ء و ۲۷ رمحرم ۱۳۰۳ ہجری بروز دوشنبہ ) دہلی میں ہوئی تھی مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی معروف شیخ الکل ) نے نکاح