حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 472 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 472

حیات احمد ۴۷۲ جلد دوم حصہ سوم نے اپنے اعلان مورخہ ۲۴ مارچ ۱۸۸۶ء مطبوعہ چشمہ فیض قادری میں کیا تھا۔علاوہ اس کے یہ پیشگوئی آج کی تاریخ سے دو برس پہلے کئی آریوں اور مسلمانوں و بعض مولویوں و حافظوں کو بھی بتلائی گئی تھی چنانچہ آریوں میں سے ایک شخص ملا وامل نام جو سخت مخالف اور نیز شرمیت ساکنان قصبہ قادیان ہیں۔“ مجموعه اشتہارات جلد اصفحه ۹۹ بار دوم ) ان میں سے شرمپت رائے تو فوت ہو چکا ہے مگر لالہ ملا وامل ابھی تک زندہ ہے۔یہ اعلان ان کی زندگیوں میں شائع ہوا اور وہ اس پیشگوئی کے گواہ تھے مگر انہوں نے کبھی انکار نہیں کیا باوجود یکہ آریہ سماج کی طرف سے بھی ان پر زور دیا گیا کہ وہ اس اور دوسری پیشگوئیوں کی تردید کریں جن کے متعلق ان کی شہادت کا اعلان ہوتا ہے۔ہوشیار پور کے بعد قادیان کے بعض لوگوں نے اس پیشگوئی کی وقعت کو کم کرنے کے لئے یہ کہنا شروع کیا کہ " عرصہ ڈیڑھ ماہ سے مشتہر کے گھر میں لڑکا پیدا ہو گیا ہے۔گویا یہ پیشگوئی لڑکے کے پیدا ہونے کے بعد مشتہر کی ہے۔یہ معترضین سید صابر علی شاہ اور حافظ سلطانی کشمیری تھے۔چونکہ اس سے خدا تعالیٰ کے ایک نشان اور آیت اللہ کو مشکوک کیا جا رہا تھا آپ کے نے ۲۴ مارچ ۱۸۸۶ء کو ایک اشتہار اس قسم کی خرافات کے جواب میں شائع کیا ہے جس کو میں نے حاشیہ میں دے دیا ہے۔ے حاشیہ۔وو اشتهار واجب الاظهار بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّيْ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ چونکہ اس عاجز کے اشتہار مورخہ ۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء پر جس میں ایک پیشگوئی دربارہ تولد ایک فرزند صالح ہے جو بہ صفات مندرجہ اشتہار پیدا ہو گا۔دو شخص سکنہ قادیان یعنی حافظ سلطانی کشمیری وصابر علی نے روبروئے مرزا نواب بیگ و میاں شمس الدین و مرزا غلام علی ساکنان قادیان یہ دروغ بے فروغ بر پا کیا ہے کہ ہماری دانست میں عرصہ ڈیڑھ ماہ سے صاحب مشتہر کے گھر میں لڑکا پیدا ہو گیا ہے۔حالانکہ یہ قول نامبردگان کا سراسر افترا و دروغ و بمقتضائے کینہ وحسد وعناد جبلی ہے۔جس سے وہ نہ صرف مجھ پر بلکہ تمام مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔اس لئے ہم ان کے اس قول دروغ کا رڈ واجب سمجھ کر عام اشتہار دیتے ہیں کہ ابھی تک جو۲۲ / مارچ