حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 473 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 473

حیات احمد ۴۷۳ اندر من مراد آبادی پھر سامنے آیا جلد دوم حصہ سوم اندر من مراد آبادی اس سے پہلے حضرت کے مقابلہ میں بھاگ چکا تھا۔چنانچہ دعوت یکسالہ میں وہ بھاگا جس کا ذکر پہلے آچکا ہے حالانکہ حضرت اقدس کے نمائندے چوبیس سو روپیہ بقیہ حاشیہ۔(۱۸۸ء ہے۔ہمارے گھر میں کوئی لڑکا بجز پہلے دولڑکوں کے جن کی عمر ۲۰ ۲۲۰ سال سے زیادہ ہے پیدا نہیں ہوا لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدہ الہی 9 برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہو گا۔خواہ جلد ہو خواہ دیر سے۔بہر حال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا۔اور یہ انتہام کہ گویا ڈیڑھ ماہ سے پیدا ہو گیا ہے۔سراسر دروغ ماہ ہے۔ہم اس دروغ کے ظاہر کرنے کے لئے لکھتے ہیں کہ آج کل ہمارے گھر کے لوگ بمقام چھاؤنی انبالہ صدر بازار اپنے والدین کے پاس یعنی اپنے والد میر ناصر نواب صاحب نقشہ نویس دفتر نہر کے پاس بود و باش رکھتے ہیں اور ان کے گھر کے متصل منشی مولا بخش صاحب ملازم ڈاک ریلوے اور بابو محمد صاحب کلرک دفتر نہر رہتے ہیں۔معترضین یا جس شخص کو شبہ ہو۔اُس پر واجب ہے کہ اپنا شبہ رفع کرنے کے لئے وہاں چلا جاوے اور اُس جگہ اردگرد سے خوب دریافت کر لے۔اگر کرایہ آمد و رفت موجود نہ ہو تو ہم اس کو دے دیں گے۔لیکن اگر اب بھی جا کر دریافت نہ کرے۔اور نہ دروغ گوئی سے باز آوے تو بجز اس کے کہ ہمارے اور تمام حق پسندوں کی نظر میں لَعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِین کا لقب پاوے اور نیز زیر عتاب حضرت أَحْكُمُ الْحَاكِمِين کے آوے۔اور کیا ثمرہ اس یاوہ گوئی کا ہو گا۔خدا تعالیٰ ایسے شخصوں کو ہدایت دیوے کہ جو جوش حسد میں آ کر اسلام کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے۔اور اس دروغ گوئی کے مال کو بھی نہیں سوچتے۔اس جگہ اس وہم کا دور کرنا بھی قرین مصلحت ہے کہ جو ہمقام ہوشیار پور ایک آریہ صاحب نے اس پیشگوئی پر بصورت اعتراض پیش کیا تھا کہ لڑکالڑکی کے پیدا ہونے کی شناخت دائیوں کو بھی ہوتی ہے۔یعنی دائیاں بھی معلوم کر سکتی ہیں کہ لڑکا پیدا ہو گا یا لڑکی۔واضح رہے کہ ایسا اعتراض کرنا معترض صاحب کی سراسر حیلہ سازی وحق پوشی ہے۔کیونکہ اول تو کوئی دائی ایسا دعویٰ نہیں کر سکتی بلکہ ایک حاذق طبیب بھی ایسا دعوی ہرگز نہیں کر سکتا کہ اس امر میں میری رائے قطعی اور یقینی ہے جس میں تخلف کا امکان نہیں صرف ایک انکل ہوتی ہے کہ جو بار ہا خطا جاتی ہے۔علاوہ اس کے یہ پیشگوئی آج کی تاریخ سے دو برس پہلے کئی آریوں اور مسلمانوں و بعض مولویوں و حافظوں کو بھی بتلائی گئی تھی۔چنانچہ آریوں میں سے ایک شخص ملا وامل نام جو سخت مخالف اور نیز شرمپت ساکنان قصبہ قادیان ہیں۔ماسوا اس کے ایک نادان بھی سمجھ سکتا ہے کہ مفہوم پیشگوئی کا اگر بنظر یکجائی دیکھا جاوے تو ایسا بشری طاقتوں سے بالا تر ہے جس کے نشانِ الہی ہونے میں کسی