حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 468 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 468

حیات احمد ۴۶۸ جلد دوم حصہ سوم ہوئی وہ مندرجہ بالا روئیداد سرمہ چشم آریہ کے مطالعہ سے ظاہر ہوتی ہے۔لیکن اس مباحثہ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ آریہ سماج پر ایک ابدی اور غیر فانی حجت قائم ہوگئی۔حضرت نے سرمہ چشم آریہ کی اشاعت کے وقت آریہ سماج کو وید اور قرآن کے مقابلہ کی دعوت دی یہ گویا اس تحدّی کی تجدید تھی جو آپ باوا نرائن سنگھ اور پنڈت کھڑک سنگھ کے وقت سے کر رہے تھے۔اس تحری میں آپ نے فرمایا کہ وید برکات روحانیہ اور محبت الہیہ تک پہنچانے سے قاصر اور عاجز ہے اور کیونکر قاصر و عاجز نہ ہو وہ وسائل جن سے یہ نعمتیں حاصل ہوتی ہیں یعنی طریقہ حقہ خداشناسی و معرفت نعماء النبی و بجا آوری اعمال صالحہ و تحصیل اخلاق مرضیه و تزکیه نفس و عَنْ رَذَائِل نفسیه ان سب معارف کے صحیح اور حق طور پر بیان کرنے سے وید بکلی محروم ہے۔کیا کوئی آریہ صفحہ زمین پر ہے کہ ہمارے مقابل پر ان امور میں وید کا قرآن شریف سے مقابلہ کر کے دکھلاوے؟ اگر کوئی زندہ ہو تو ہمیں اطلاع دے۔اور بقیہ حاشیہ۔کرتے سو انہوں نے انکار کیا اور لالہ رام کچھمن صاحب اُن کے رفیق نے مجھے کہا کہ میں آپ کی غرض کو سمجھ گیا لیکن ماسٹر صاحب ایسا کرنا نہیں چاہتے چنانچہ وہی بات ہوئی اور اخیر پر نا تمام کام چھوڑ کر سماج کا عذر پیش ہو گیا اگر کوئی دنیا کا مقدمہ یا کام ہوتا تو ماسٹر صاحب ہزار دفعہ سماج کے وقت کو چھوڑ دیتے پر سچ تو یہ ہے کہ سماج کا عذر تو ایک بہانہ ہی تھا اصل موجب تو وہ گھبراہٹ تھی جو اعتراض کی عظمت اور بزرگی کی وجہ سے ماسٹر صاحب کے دل پر ایک عجیب کام کر رہی تھی۔اسی باعث سے پہلے ماسٹر صاحب نے باتوں میں وقت کھویا اور اعتراض کو سنتے ہوئے ایسے گھبرائے اور کچھ ایسے مبہوت سے ہو گئے کہ چہرہ پر پریشانی کے آثار ظاہر تھے اور ناکارہ عذارت پیش کر کے یہ چاہا کہ بغیر تحریر جواب اٹھ کر چلے جائیں اسی وجہ سے لوگ تحریر جواب سے نا امید ہو کر متفرق ہو گئے اور بعض یہ کہتے ہوئے اٹھ گئے کہ اب کیا بیٹھیں اب تو بحث ختم ہو گئی۔آخر ماسٹر صاحب نے طوعاً و کرہاً حاضرین کی شرم سے کچھ لکھا جس کا آدھا دھڑ تو ماسٹر صاحب کے کاغذ پر اور آدھا ان کے دل میں ہی رہا، بہر حال وہ اپنے جواب کو اسی جان کندن میں چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ماسٹر صاحب کو اٹھتے وقت میں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ۔