حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 455 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 455

حیات احمد ۴۵۵ جلد دوم حصہ سوم درج رسالہ کر دیں۔انشاء اللہ تعالیٰ اور چونکہ پیشگوئیاں کوئی اختیاری بات نہیں ہے تا ہمیشہ اور ہر حال میں خوشخبری پر دلالت کریں۔اس لئے ہم با عکسار تمام موافقین و مخالفین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی پیشگوئی کو اپنی نسبت نا گوار طبع ( جیسے خبر موت فوت یا کسی اور مصیبت کی نسبت ) پاویں تو اس بندہ ناچیز کو معذور تصویر فرما دیں۔بالخصوص وہ صاحب جو باعث مخالفت و مغائرت مذہب اور بوجہ نامحرم ہونے کے حُسنِ ظن کی طرف ہمشکل رجوع کر سکتے ہیں۔جیسے منشی اندرمن صاحب مراد آبادی و پنڈت لیکھرام صاحب پشاوری وغیرہ جن کی قضا و قدر کے متعلق غالباً اس رسالے میں بقید وقت و تاریخ کچھ تحریر ہو گا۔اُن صاحبوں کی خدمت میں دلی صدق سے ہم گزارش کرتے ہیں کہ ہمیں فی الحقیقت کسی کی بدخواہی دل میں نہیں بلکہ ہمارا خدا وند کریم خوب جانتا ہے کہ ہم سب کی بھلائی چاہتے ہیں اور بدی کی جگہ نیکی کرنے کو مستعد ہیں۔اور بنی نوع کی ہمدردی سے ہمارا سینہ منور و معمور ہے اور سب کے لئے ہم راحت و عافیت کے خواستگار ہیں۔لیکن جو بات کسی موافق یا مخالف کی نسبت یا خود ہماری نسبت کچھ رنج دہ ہو تو ہم اس میں بکتی مجبور معذور ہیں۔ہاں ایسی بات کے دروغ نکلنے کے بعد جو کسی کے دل کے دُکھنے کا موجب ٹھہرے ہم سخت لعن وطعن کے لائق بلکہ سزا کے مستوجب ٹھہریں گے ہم قسمیہ بیان کرتے ہیں۔اور عالم الغیب کو گواہ رکھ کر کہتے ہیں کہ ہمارا سینہ سراسر نیک نیتی سے بھرا ہوا ہے اور ہمیں کسی فرد بشر سے عداوت نہیں۔اور کوئی بدظنی کی راہ سے کیسی ہی بدگوئی و بدزبانی کی مشق کر رہا ہے۔اور ناخدا ترسی سے ہمیں آزار دے رہا ہے ہم پھر بھی اس کے حق میں دعا ہی کرتے ہیں کہ اے خدائے قادر و توانا اس کو سمجھ بخش اور اس کو اُس کے ناپاک خیال اور نا گفتنی باتوں میں معذور سمجھتے ہیں۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ابھی اس کا مادہ ایسا ہے اور ہنوز اس کی سمجھ اور نظر اسی قدر ہے کہ جو حقائق عالیہ تک نہیں پہنچ سکتی۔در زاهد ظاہر پرست از حال ما آگاه نیسی حق ما ہرچہ گوید جائے بیچ اکراه نیست ا ترجمہ کوئی ظاہر پرست زاہد ہمارے حال سے واقف نہیں ہوسکتا۔اس لئے وہ ہمارے متعلق جو کچھ بھی کہے بُرا منانے کی کوئی وجہ نہیں۔