حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 454 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 454

حیات احمد ۴۵۴ جلد دوم حصہ سوم رساله سراج منیر مشتمل بر نشا نہائے رب قدیر یہ رسالہ اس احقر ( مؤلف براہین احمدیہ ) نے اس غرض سے تالیف کرنا چاہا ہے کہ تا منکرین حقیت اسلام و مکذبین رسالت حضرت خیر الا نام علیہ وآلہ الف الف سلام کی آنکھوں کے آگے ایسا چمکتا ہوا چراغ رکھا جائے جس کی ہر سمت سے گوہر آبدار کی طرح روشنی نکل رہی ہے اور بڑی بڑی پیشگوئیوں پر جو ہنوز وقوع میں نہیں آئیں مشتمل ہے چنانچہ خود خداوند کریم جَلَّ شَانُهُ و عَزَّ اسْمُهُ نے جس کو پوشیدہ بھیدوں کی خبر ہے اس ناکارہ کو بعض اسرار مخفیہ و اخبار غیبیہ پر مطلع کر کے بار عظیم سے سبکدوش فرمایا حقیقت میں اُسی کا فضل ہے۔اور اسی کا کام۔جس نے چار طرفہ کشاکش مخالفوں و موافقوں سے اس ناچیز کو مخلصی بخشی کی قصہ کوتاه کرد ورنه درد سر بسیار بود اب یہ رسالہ قریب الاختتام ہے اور انشاء اللہ القدیر صرف چند ہفتوں کا کام ہے اور اس رسالہ میں تین قسم کی پیشگوئیاں ہیں۔اوّل وہ پیشگوئیاں کہ جو خود اس احقر کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں یعنی جو کچھ راحت یا رنج یا وفات اس ناچیز سے متعلق ہے یا جو کچھ تفضلات و انعامات الہیہ کا وعدہ اِس ناچیز کو دیا گیا ہے وہ ان پیشگوئیوں میں مندرج ہے۔دوسری وہ پیشگوئیاں جو بعض احباب یا عام طور پر کسی ایک شخص یا بنی نوع سے متعلق ہیں۔اور ان میں سے ابھی کچھ کام باقی ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو وہ بقیہ بھی طے ہو جائے گا۔تیسری وہ پیشگوئیاں جو مذہب غیر کے پیشواؤں یا واعظوں یا ممبران سے تعلق رکھتی ہیں۔اور اس قسم میں ہم نے صرف بطور نمونہ چند آدمی آریہ صاحبوں اور چند قادیان کے ہندوؤں کو لیا ہے جن کی نسبت مختلف قسم کی پیشگوئیاں ہیں کیونکہ انہیں میں آج کل نئی نئی قسم کی تیزی اور انکار اشد پایا جاتا ہے اور ہمیں اس تقریب پر یہ بھی خیال ہے کہ خداوند کریم ہماری محسن گورنمنٹ انگلشیہ کو جس کے احسانات سے ہم کو بہ تمام تر فراغت و آزادی گوشه خلوت میسر و گنج امن و آسائش حاصل ہے ظالموں کے ہاتھ سے اپنی حفظ وحمایت میں رکھے۔اور روس منحوس کو اپنی سرگردانیوں میں محبوس و معکوس و مبتلا کر کے ہماری گورنمنٹ کو فتح و نصرت نصیب کرے تا ہم وہ بشارتیں بھی (اگر مل جائیں ) اس عمدہ موقع پر