حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 456
حیات احمد ۴۵۶ جلد دوم حصہ سوم اور باوجود اس رحمتِ عام کے کہ جو فطرتی طور پر خدائے بزرگ و برتر نے ہمارے وجود میں رکھی ہے۔اگر کسی کی نسبت کوئی بات نا ملائم یا کوئی پیشگوئی وحشت ناک بذریعہ الہام ہم پر ظاہر ہو تو وہ عالم مجبوری ہے جس کو ہم غم سے بھری ہوئی طبیعت کے ساتھ اپنے رسالہ میں تحریر کریں گے۔چنانچہ ہم پر خود اپنی نسبت، اپنے بعض جدی اقارب کی نسبت، اپنے بعض دوستوں کی نسبت اور بعض اپنے فلاسفر قومی بھائیوں کی نسبت کہ گویا نجم الہند ہیں۔اور ایک دیسی امیر نو وارد پنجابی الاصل کی نسبت بعض متوحش خبریں جو کسی کے ابتلا اور کسی کی موت وفوت اعزہ اور کسی کی خود اپنی موت پر دلالت کرتی ہیں جو انشاء اللہ القدیر بعد تصفیہ لکھی جائیں گی۔منجانب اللہ منکشف ہوئیں ہیں اور ہر ایک کے لئے ہم دعا کرتے ہیں۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر تقدیر معلق ہو تو دعاؤں سے بفضلہ تعالیٰ مل سکتی ہے۔اسی لئے رجوع کرنے والی مصیبتوں کے وقت مقبولوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور شوخیوں اور بے راہیوں سے باز آ جاتے ہیں۔باایں ہمہ اگر کسی صاحب پر کوئی پیشگوئی شاق گزرے تو وہ مجاز ہیں کہ یکم مارچ ۱۸۸Yء سے یا اس تاریخ سے جو کسی اخبار میں پہلی دفعہ یہ مضمون شائع ہو۔ٹھیک ٹھیک دو ہفتہ کے اندر اپنی دستخطی تحریر سے مجھے کو اطلاع دیں۔تا وہ پیشگوئی جس کے ظہور سے وہ ڈرتے ہیں اندراج رسالہ سے علیحدہ رکھی جائے اور موجب دل آزاری سمجھ کر کسی کو اس پر مطلع نہ کیا جائے اور کسی کو اس کے وقتِ ظہور سے خبر نہ دی جاوے۔ان ہر سہ قسم کی پیشگوئیوں میں سے جو انشاء اللہ رسالہ میں بہ بسط تمام درج ہوں گی۔پہلی پیشگوئی جو خود اس احقر سے متعلق آج ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء جو مطابق ۱۵؍ جمادی الاوّل ہے۔برعایت ایجاز و اختصار کلمات الہامیہ نمونہ کے طور پر لکھی جاتی ہے۔اور مفصل رسالہ میں مندرج ہوگی۔انشاء اللہ تعالیٰ پہلی پیشگوئی بالہام اللہ تعالیٰ و اعلامہ عز و جل خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے۔(جَلَّ شَانُهُ وَ عَزَّ اِسْمُهُ ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔اُسی کے موافق جو تُو نے مجھ سے مانگا۔سومیں نے تیری تضرعات