حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 449 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 449

حیات احمد ۴۴۹ جلد دوم حصہ سوم ہوشیار پورے کا قیام اور ہوشیار پور پہنچ کر شیخ مہر علی صاحب رئیس اعظم کے طویلہ میں آپ نے ایک بالا خانہ میں قیام فرمایا آپ بالا خانہ میں رہتے تھے اور صرف ضرورت کے وقت نیچے آتے تھے اور کسی کو اوپر جانے کی اجازت نہ تھی جب تک آپ کسی کو طلب نہ کریں۔طویلے کے نیچے کے حصہ میں آپ لے حاشیہ۔اس سفر میں حضرت منشی عبداللہ سنوری رضی اللہ عنہ ساتھ تھے انہوں نے جو حالات اس سفر کے بیان کئے ہیں وہ میں سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۸۸ سے یہاں درج کرتا ہوں۔بسم الله الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب نے ۱۸۸۴ء میں ارادہ فرمایا تھا کہ قادیان سے باہر جا کر کہیں چلہ کشی فرمائیں گے اور ہندوستان کی سیر بھی کریں گے۔چنانچہ آپ نے ارادہ فرمایا کہ سو جان پور ضلع گورداسپور میں جا کر خلوت میں رہیں اور اس کے متعلق حضور نے ایک اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا پوسٹ کارڈ بھی مجھے روانہ فرمایا۔میں نے عرض کیا کہ مجھے بھی اس سفر اور ہندوستان کے سفر میں حضور ساتھ رکھیں۔حضور نے منظور فرما لیا۔مگر پھر حضور کو سفر سو جان پور کے متعلق الہام ہوا کہ تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہو گی۔چنانچہ آپ نے سو جان پور جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور ہوشیار پور جانے کا ارادہ کر لیا۔جب آپ ماہ جنوری ۱۸۸۶ء میں ہوشیار پور جانے لگے تو مجھے خط لکھ کر حضور نے قادیان بلا لیا۔اور شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کو خط لکھا کہ میں دوماہ کے واسطے ہوشیار پور آنا چاہتا ہوں کسی ایسے مکان کا انتظام کر دیں جو شہر کے ایک کنارہ پر ہو اور اس میں بالا خانہ بھی ہو۔شیخ مہرعلی نے اپنا ایک مکان جو طویلہ کے نام سے مشہور تھا خالی کروا دیا۔حضور پہلی میں بیٹھ کر دریا بیاس کے راستہ تشریف لے گئے۔میں اور شیخ حامد علی اور فتح خاں ساتھ تھے میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے۔کہ فتح خاں رسول پور متصل ٹانڈہ ضلع ہوشیار پور کا رہنے والا تھا اور حضور کا بڑا معتقد تھا مگر بعد میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے اثر کے نیچے مرتد ہو گیا۔حضور جب دریا پر پہنچے تو چونکہ کشتی تک پہنچنے کے رستے میں کچھ پانی تھا اس لئے ملاح نے حضور کو اٹھا کر کشتی میں بٹھایا جس پر حضور نے اسے ایک روپیہ انعام دیا۔دریا میں جب کشتی چل رہی تھی حضور نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میاں عبداللہ کامل کی صحبت اس سفر دریا کی طرح ہے جس میں پار ہونے کی بھی امید ہے اور غرق ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔میں نے حضور کی یہ بات سرسری طور پر سنی مگر جب فتح خان مرتد ہوا تو مجھے حضرت اقدس کی یہ بات یاد آئی۔خیر ہم راستہ میں فتح خان کے گاؤں میں قیام کرتے ہوئے دوسرے دن ہوشیار پور پہنچے۔وہاں جاتے ہی حضرت صاحب نے طویلہ کے بالا خانہ