حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 450 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 450

حیات احمد ۴۵۰ جلد دوم حصہ سوم کے ہر سہ خدام جن کا میں نے ذکر کیا ہے قیام پذیر تھے۔حضرت اقدس نے ہوشیار پور میں دو ماہ تک قیام کیا اور ۷ار مارچ ۱۸۸۶ء کو وہاں سے واپس ہوئے۔بقیہ حاشیہ۔میں قیام فرمایا اور اس غرض سے کہ ہمارا آپس میں کوئی جھگڑا نہ ہو ہم تینوں کے الگ الگ کام مقرر فرما دیئے۔چنانچہ میرے سپر دکھانا پکانے کا کام ہوا۔فتح خان کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ بازار سے سودا وغیرہ لایا کرے۔شیخ حامد علی کا یہ کام مقرر ہوا کہ گھر کا بالائی کام اور آنے جانے والے کی مہمان نوازی کرے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود نے بذریعہ دستی اشتہارات اعلان کر دیا کہ چالیس دن تک مجھے کوئی صاحب ملنے نہ آویں اور نہ کوئی صاحب مجھے دعوت کے لئے بلائیں۔ان چالیس دن کے گزرنے کے بعد میں یہاں بیس دن اور ٹھہروں گا۔ان میں دنوں میں ملنے والے ملیں۔دعوت کا اردہ رکھنے والے دعوت کر سکتے ہیں اور سوال و جواب کرنے والے سوال و جواب کر لیں۔اور حضرت صاحب نے ہم کو بھی حکم دے دیا کہ ڈیوڑھی کے اندر کی زنجیر ہر وقت لگی رہے اور گھر میں بھی کوئی شخص مجھے نہ بلائے۔میں اگر کسی کو بلاؤں تو وہ اسی حد تک میری بات کا جواب دے جس حد تک کہ ضروری ہے اور نہ اوپر بالا خانہ میں کوئی میرے پاس آوے۔میرا کھانا اوپر پہنچا دیا جاوے مگر اس کا انتظار نہ کیا جاوے کہ میں کھانا کھالوں خالی برتن پھر دوسرے وقت لے جایا کریں۔نماز میں اوپر الگ پڑھا کروں گا۔تم نیچے پڑھ لیا کرو۔جمعہ کے لئے حضرت صاحب نے فرمایا کہ کوئی ویران سی مسجد تلاش کرو۔جو شہر کے ایک طرف ہو جہاں ہم علیحدگی میں نماز ادا کر سکیں۔چنانچہ شہر کے باہر ایک باغ تھا اس میں ایک چھوٹی سی ویران مسجد تھی وہاں جمعہ کے دن حضور تشریف لے جایا کرتے تھے اور ہم کو نماز پڑھاتے تھے۔اور خطبہ بھی خود پڑھتے تھے میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ میں کھانا چھوڑ نے اوپر جایا کرتا تھا اور حضور سے کوئی بات نہیں کرتا تھا مگر کبھی حضور مجھ سے خود کوئی بات کرتے تھے تو جواب دے دیتا تھا۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا میاں عبداللہ ان دنوں میں مجھ پر بڑے بڑے خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھلے ہیں اور بعض اوقات دیر دیر تک خدا تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا رہتا ہے۔اگر ان کو لکھا جاوے تو کئی ورق ہو جاویں چنانچہ میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ پسر موعود کے متعلق الہامات بھی اسی چلہ میں ہوئے تھے اور بعد چلہ کے ہوشیار پور سے ہی آپ نے اس پیشگوئی کا اعلان فرمایا تھا ( خاکسار عرض کرتا ہے ملاحظہ ہو اشتہار ۲۰؎ فروری ۱۸۸۶ء) جب چالیس دن گزر گئے تو پھر آپ حسب اعلان میں دن اور وہاں ٹھہرے ان دنوں میں کئی لوگوں نے دعوتیں کیں اور کئی لوگ مذہبی تبادلہ خیالات کے لئے آئے۔اور باہر سے حضور کے پرانے