حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 448
حیات احمد ۴۴۸ جلد دوم حصہ سوم کے قدرت الہیہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے اِنِّي أَنَا رَبُّكَ کی آواز آئی۔“ اور اس وحی میں جو آپ پر نازل ہوئی آپ کا نام موسیٰ بھی رکھا گیا ہے۔القصہ یہ چالیس روزہ مجاہدہ کے لئے آغاز ۱۸۸۶ء کے ساتھ سفر ہوشیار پور کا ارادہ فرمایا۔ہوشیار پور جانے کا خیال آپ نے اپنے نفس سے تجویز نہیں فرمایا تھا بلکہ خدا تعالیٰ کی وحی خفی کے ماتحت تھا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے آپ کے اس سفر کے بابرکت ہونے کی بشارت دی اور آپ نے ۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء کو جو اشتہار ضمیمه اخبار ریاض ہندا امرتسر مطبوعہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء کے طور پر چھپوا کر شائع کیا اس میں اس برکت کے وعدہ کی صراحت ہے تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لودہانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کر دیا۔پس یہ سفر الہی ہدایت کے ماتحت تھا اور اس میں خدا تعالیٰ کی مشیت نے بہت بڑے اسرار ر کھے تھے۔اس سفر کے لئے آپ شروع جنوری ۱۸۸۶ء میں قادیان سے روانہ ہوئے اس سفر میں آپ کے ہمراہ حافظ حامد علی صاحب ، منشی عبداللہ صاحب سنوری رضی اللہ عنہما اور میاں فتح خاں صاحب تھے حضرت نے یہ سفر قادیان سے خاموشی کے ساتھ کیا کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں اور آپ نے اپنے رفقاء سفر کو یہ ہدایت کر دی تھی کہ وہ کسی سے ذکر نہ کریں یہ اسی لئے کہ اگر اس سفر کی شہرت ہو گئی تو احباب جمع ہو جائیں گے اور وہ اصل مقصد جو مجاہدہ چہل روزہ کا ہے فوت ہو جائے گا۔چنانچہ اس مقصد کے لئے آپ جنوری ۱۸۸۶ء میں قادیان سے روانہ ہوئے۔