حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 447
حیات احمد ۴۴۷ جلد دوم حصہ سوم ۱۸۸۶ء کے حالات ۱۸۸۶ء کا سال عجیب و غریب واقعات اور سماوی تائیدات کا سال تھا اللہ تعالیٰ کی کھلی کھلی تائید اور نصرت آپ کے شامل حال نظر آتی ہے اور ہر میدان میں فتح و نصرت آپ کے قدم چومتی ہے اس سال کے سفر کا آغاز ہوشیار پور کے سفر سے ہوا۔سفر ہوشیار پور میں ۱۸۸۴ء کے واقعات میں ذکر کر آیا ہوں کہ حضرت اقدس ایک سفر کسی ایسے مقام کے لئے کرنا چاہتے تھے جہاں کوئی آپ کو نہ جانتا ہو اور وہاں آپ چالیس دن تک خلوت میں دعا اور ذکر الہی کریں اور پھر یہ سفر مشیت ایزدی ہی کے ماتحت ملتوی ہو گیا اور علم الہی میں یہ سفر ۱۸۸۶ء میں مقرر تھا۔اور اس کے لئے ہوشیار پور کو آپ نے منتخب کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی۔غرض جو عزم آپ نے ۱۸۸۴ء میں کیا تھا خدا تعالیٰ نے اس کے لئے ۱۸۸۶ ء کا سال اپنے علم میں مقدر کیا ہوا تھا اور یہ سفر بجائے سو جان پور کی جانب کے ہوشیار پور کی طرف قرار پایا یہ سفر کسی دنیوی غرض و مقصد کو مد نظر رکھ کر نہیں کیا گیا تھا بلکہ آپ کی غرض یہ تھی کہ وہاں گوشہ تنہائی میں ایک چلہ کریں تا کہ خدا تعالیٰ کی کتاب میں چہل روزہ خلوت کے جو برکات اور فیوض ہیں انہیں حاصل کریں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روحانی ترقی کے لئے چالیس راتوں کا مجاہدہ قرآن مجید میں منقول ہے اور حضرت اقدس جن ایام میں براہین لکھ رہے تھے تو آپ کو خدا تعالیٰ نے موسیٰ عمران سے تشبیہ دی چنانچہ براہین کی چوتھی جلد کے آخر میں جو اعلان ” ہم اور ہماری کتاب“ کے عنوان سے لکھا گیا ہے اس میں آپ نے صاف طور پر لکھا ہے کہ ابتدا میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی پھر بعد اس