حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 446
حیات احمد ۴۴۶ جلد دوم حصہ سوم (۷) نومبر ۱۸۸۵ء ۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو یعنی اس رات کو جو ۲۸ / نومبر ۱۸۸۵ء کے دن سے پہلے آئی ہے اس قدر شب شہب کا تماشا آسمان پر تھا جو میں نے اپنی تمام عمر میں اس کی نظیر کبھی نہیں دیکھی اور آسمان کی فضا میں اس قدر ہزار ہا شعلے ہر طرف چل رہے تھے جو اس رنگ کا دنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تا میں اس کو بیان کرسکوں۔مجھ کو یاد ہے کہ اس وقت یہ الہام بکثرت ہوا تھا۔کہ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى * سواس رمنی کو رَمْي شھب سے بہت مناسبت تھی۔یہ مہب ثاقبہ کا تماشا جو ۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو ایسا وسیع طور پر ہوا جو یورپ اور امریکہ اور ایشیاء کی عام اخباروں میں بڑی حیرت کے ساتھ چھپ گیا۔لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بے فائدہ تھا۔لیکن خدا وند کریم جانتا ہے کہ سب سے زیادہ غور سے اس تماشا کے دیکھنے والا اور پھر اس سے حظ اور لذت اٹھانے والا میں ہی تھا۔میری آنکھیں بہت دیر تک اس تماشا کے دیکھنے کی طرف لگی رہیں۔اور وہ سلسلہ رمی شہب کا شام سے ہی شروع ہو گیا تھا۔جس کو میں صرف الہامی بشارتوں کی وجہ سے بڑے سرور کے ساتھ دیکھتا رہا کیونکہ میرے دل میں الہا ما ڈالا گیا تھا کہ یہ تیرے لئے نشان ظاہر ہوا ہے۔اور پھر اُس کے بعد یورپ کے لوگوں کو وہ ستارہ دکھائی دیا۔جو حضرت مسیح کے ظہور کے وقت نکلا تھا۔میرے دل میں ڈالا گیا۔کہ یہ ستارہ بھی تیری صداقت کے لئے ایک دوسرا نشان ہے۔“ ( آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۱۰ وااا حاشیہ۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۱۰۱۱۰) ترجمہ۔جو کچھ تو نے چلایا یہ تو نے نہیں بلکہ خدا نے چلایا۔( تذکرہ صفحہ ۳۵ مطبوعہ ۲۰۰۴ء)