حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 444 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 444

حیات احمد ۴۴۴ جلد دوم حصہ سوم اب جاننا چاہئے کہ وہ پیشگوئی جس کی اکتیس ماہ کی میعاد اور جس پر ہندؤں کی گواہیاں ثبت کرائی گئی تھیں۔وہ ہمارے چا زاد بھائی مرزا امام الدین و نظام الدین کے اہل وعیال کی نسبت تھی۔اور خدا تعالیٰ نے بذریعہ اپنے الہام کے اس عاجز پر ظاہر کیا تھا کہ مرزا امام الدین و نظام الدین کے عیال میں سے اکتیسویں ماہ کے پورے ہونے تک کوئی شخص فوت ہو جائے گا۔چنانچہ عین اکتیسویں مہینے کے درمیان مرزا نظام کی دختر یعنی مرزا امام الدین کی بھتیجی بعمر سال ایک بہت چھوٹا بچہ چھوڑ کر فوت ہو گئی۔اور آریوں کا شور وغوغا وہیں سرد ہو گیا۔یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں کہ وہ ہمیشہ سچ کی حمایت کرتا ہے اور صادق کی پناہ ہوتا ہے اب ہم اس جگہ الہامی پیشگوئی کی وہ عبارت لکھ دیتے ہیں جس پر قادیان کے ہندوؤں کے دستخط ہیں۔اور وہ یہ ہیں۔مرزا امام الدین و نظام الدین کی نسبت مجھے الہام ہوا ہے کہ اکتیس ماہ تک ان پر سخت مصیبت پڑے گی یعنی ان کے اہل وعیال و اولاد میں سے کسی مرد یا کسی عورت کا انتقال ہو جائے گا۔جس سے ان کو سخت تکلیف اور تفرقہ پہنچے گا۔آج ہی کی تاریخ کے حساب سے جو نئیس ساون سمت ۱۹۲ مطابق ۵/ اگست ۱۸۸۵ء ہے۔یہ واقعہ ظہور میں آئے گا۔مرقوم ۵/اگست ۱۸۸۵ء گواہ شد۔پنڈت بھارامل ساکن قادیان بقلم خود گواہ شد۔پنڈت بیجناتھ بقلم خود گواہ شد۔بشند اس برہمن بقلم خود گواہ شد۔جند اس کھتری بقلم خود بالآخر ہم امرتسر اور لاہور کے نامی آریہ صاحبوں کی خدمت میں التماس کرتے ہیں کہ ان بھلے مانسوں سے دریافت تو کریں کہ ہمارا یہ بیان سچ ہے یا نہیں؟ اور اگر سچ ہے تو پھر اسلام کی سچائی اور برکت سے انکار کرنا ہٹ دھرمی میں داخل ہے یا یہ بھی وید کی ہدایت کی رو سے دہرم کی ہی بات ہے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى - خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور - ۲۰ مارچ ۱۸۸۸ء ۲۶۲۲۰ ( مطبوعہ ریاض ہند امرتسر پنجاب) ید اشتهار تقطیع کلاں کے ایک صفحہ پر ہے) سلام تبلیغ رسالت جلد اصفحہ ۱۰۱ تا ۱۰۳ - مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۱۲۴، ۱۲۵ بار دوم )