حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 415 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 415

حیات احمد ۴۱۵ جلد دوم حصہ سوم چابی دے کر چوبیس سو روپیہ لے کر چلا آیا جب وہ یہ بیان کرتے تھے تو میں اس وقت بھی اس خوشی کے آثار ان کے چہرہ پر دیکھتا تھا جو انہیں اس کامیابی سے اس لئے ہوئی کہ اسلام سر بلند ہو گیا۔وہ کہتے تھے کہ میں جب روپیہ لے کر آیا تو میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ یہ مرزا صاحب کی تائید ربانی کا کھلا ثبوت ہے اور جو کچھ ہوا ربانی تحریک اور تائید سے ہوا۔صبح کو یہ لوگ روپیہ اور جواب لے کر اندر من صاحب کی قیام گاہ پر گئے اور وہ وہاں سے جا چکا تھا۔جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے اپنے ساتھ جانے والوں میں مرزا امان اللہ منشی امیر الدین اور غالباً بابا محمد چٹو یا خلیفہ رجب دین صاحبان رَحِمَ اللهُ عَلَيْهِمْ اَجْمَعِین) کا نام مجھے یاد ہے۔اس وقت لاہور میں مذہبی حیثیت سے بھی یہی پیش پیش تھے۔منشی اندرمن کا رد عمل لاہور سے فراری کے بعد منشی اندرمن نے اس مکتوب مورخہ ۳۰ رمئی مورخہ ۱۸۸۵ء کے جواب میں ایک اشتہار شائع کیا جس کے ذریعہ اصل واقعات کو اپنی شکست کی ذلت سے بچنے کے لئے بدل دیا۔اس پر حضرت اقدس نے ایک اور خط بذریعہ رجسٹری اس کو لکھا۔جس کو حضرت منشی عبد اللہ سنوری رضی اللہ عنہ نے شائع کر دیا ہے جو حسب ذیل ہے۔اعلان مرزا غلام احمد صاحب مؤلّف براہین احمدیہ کے اشتہار مورخہ ۳۰ / مئی ۱۸۸۵ء مطبوعه صدیقی پریس لاہور کے جواب میں منشی اندر من مراد آبادی نے ایک اشتہار مطبوعہ مفید عام پریس لا ہور مشتہر کیا تھا جس کے جواب میں مرزا صاحب نے نامہ ذیل تحریر فرما کر رجسٹری منشی اندرمن کے نام ارسال فرمایا ہے۔اس کو ہم پبلک سے انصاف چاہنے کی امید پر مشتہر کرتے ہیں۔الراقم۔فقیر عبداللہ سنوری ترجمہ۔اللہ تعالیٰ ان سب پر رحم فرمائے۔