حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 414 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 414

حیات احمد ۴۱۴ لا ہوری وفد جو روپیہ لے کر گیا تھا جلد دوم حصہ سوم منشی اندرمن نے یہ مطالبہ اوّلاً نابھہ اور پھر لاہور آ کر کیا تھا اور لاہور سے حضرت کو خط لکھا کہ چوہیں سور و پیہ بھیجا جاوے اسے یہ یقین تھا کہ میرے مطالبہ پر فوری چوبیں سو روپیہ مہیا نہیں ہو سکتا اس لئے کہ وہ اس زمانہ مسرت کے حالات سے واقف تھا اور دراصل وہ دعوت نشان کو قبول نہیں کر رہا تھا وہ مباحثہ کی طرح ڈالنا چاہتا تھا۔تاہم حضرت نے اس پر ہر طرح اتمام حجت کیا اگر چہ اس اشتہار سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ لاہوری وفد کن لوگوں پر مشتمل تھا اور روپیہ کس طرح مہیا ہوا۔( مگر میں نے اسے اپنے ذاتی علم کی بناء پر جو مجھے اس شخص کے ذریعہ حاصل ہوا جس کو اس میں شرکت کی عزت حاصل تھی ) اس کی کسی قدر تفصیل اس لئے لکھتا ہوں کہ یہ بھی حضرت کی صداقت کا ایک نشان ہے اور کس طرح پر اللہ تعالیٰ اپنے ماموروں کی مدد کرتا ہے۔حضرت کے ان ابتدائی ایام میں منشی عبدالحق صاحب، منشی الہی بخش صاحب، حافظ محمد یوسف صاحب اور ان کے دوستوں کی ایک جماعت تھی جو اہلحدیث تھے اور یہ سب حضرت مولوی عبداللہ غزنوی رحمتہ اللہ علیہ سے تعلق رکھتے تھے اور وہ حضرت کی غیرت اسلامی اور قرآن کریم اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وجلال کے لئے قربانیوں کو جانتے تھے اور براہین احمدیہ کی اشاعت سے خاص تعلق رکھتے تھے اور ہر موقعہ پر وہ مالی امداد کے لئے آمادہ رہتے تھے اسی جماعت میں ایک شخص منشی محمد سزاوار خاں صاحب تھے جو لاہور میں جنرل پوسٹ آفس کے پوسٹ ماسٹر تھے نہایت شریف الطبع۔دیندار اور وجیہ مسلمان تھے اس روپیہ کے لئے حافظ محمد یوسف صاحب ان کے پاس رات کو پہنچے۔اس لئے کہ دوسرے دن میعاد ختم ہو گئی تھی۔منشی سزاوار خاں پوسٹ آفس ہی میں تھے ان سے جب یہ ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا روپیہ موجود ہے مگر گھر پر ہے میں اس وقت جا نہیں سکتا تم چابی لے جاؤ اور جا کر روپیہ لے لو۔حافظ محمد یوسف صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں ان کے گھر پر گیا اور ان کا پیغام دے کر