حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 407 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 407

حیات احمد ۴۰۷ جلد دوم حصہ سوم بشہادت و رؤیت گواہ ہیں۔کتاب موصوف میں درج کئے ہیں۔اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجد دوقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بشدت مناسبت و مشابہت ہے۔اور اس کو خواص انبیاء ورسل کے نمونه پر محض به برکت متابعت حضرت خیر البشر وافضل الرسل صلی اللہ علیہ وسلم ان بہتوں پر اکابر اولیاء سے فضیلت دی گئی ہے۔کہ جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس کے قدم پر چلنا موجب نجات وسعادت و برکت اور اس کے برخلاف چلنا موجب بعد و حرمان ہے۔یہ سب ثبوت کتاب براہین احمدیہ کے پڑھنے سے کہ جو منجملہ تین سو جزو کے قریب ۳۷ جزو کے چھپ چکی ہے۔ظاہر ہوتے ہیں اور طالب حق کے لئے خود مصنف پوری پوری تسلی و تشفی کرنے کو ہر وقت مستعد اور حاضر ہے وَذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَلَا فَخْرَ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الهدی اور اگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی عقدہ کشائی نہ چاہے اور دلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف سے اس پر اتمام حجت ہے۔جس کا خدا تعالیٰ کے رو برواس کو جواب دینا پڑے گا۔بالآخر اس اشتہار کو اس دعا پر ختم کیا جاتا ہے کہ اے خدا وند کریم تمام قوموں کے مستعد دلوں کو ہدایت بخش کہ تا تیرے رسول مقبول افضل الرسل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور تیرے کامل اور مقدس کلام، قرآن شریف پر ایمان لاویں اور اس کے حکموں پر چلیں تا اُن تمام برکتوں اور سعادتوں اور حقیقی خوشحالیوں سے متمتع ہو جاویں کہ جو سچے مسلمان کو دونوں جہانوں میں ملتی ہیں۔اور جاودانی نجات اور حیات سے بہرہ ور ہوں کہ جو نہ صرف عقبی میں حاصل ہوسکتی ہے بلکہ بچے راست باز اسی دنیا میں اس کو پاتے ہیں بالخصوص قوم انگریز جنہوں نے ابھی تک اس آفتاب صداقت سے کچھ روشنی حاصل نہیں کی اور جن کی شائستہ اور مہذب اور بارحم گورنمنٹ نے ہم کو اپنے احسانات اور دوستانہ معاملات سے ممنون کر کے اس بات کے لئے دلی جوش بخشا ہے کہ ہم ان کی دنیا و دین کے لئے دلی جوش سے بہبودی و سلامتی چاہیں تا ان کے گورے و سپید منہ جس طرح دنیا میں خوبصورت ہیں آخرت میں نورانی و منور ہوں۔فَنَسْئَلُ اللهُ تَعَالَى خَيْرَهُمُ