حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 406 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 406

حیات احمد ۴۰۶ جلد دوم حصہ سوم اسلام ہے جس میں سچائی کی برکتیں آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں اور صداقت کی روشنی دن کی طرح ظاہر ہو رہی ہے اور دوسرے تمام مذاہب ایسے بدیہی البطلان ہیں کہ نہ عقلی تحقیقات سے ان کے اصول صحیح اور درست ثابت ہوئے ہیں اور نہ اُن پر چلنے سے ایک ذرہ روحانی برکت و دولت الہی مل سکتی ہے بلکہ ان کی پابندی سے انسان نہایت درجہ کا کور باطن اور سیہ دل ہو جاتا ہے جس کی شقاوت پر اسی جہاں میں نشانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اس کتاب میں دین اسلام کی سچائی کو دو طرح پر ثابت کیا گیا ہے۔(۱) اول تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے جن کی شان و شوکت و قدر و منزلت اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی مخالف اسلام ان دلائل کو توڑ دے تو اس کو دس ہزار روپیہ دینے کا اشتہار دیا ہوا ہے۔اگر کوئی چاہے تو اپنی تسلی کے لئے عدالت میں رجسٹری بھی کرالے (۲) دوم اُن آسمانی نشانوں سے جو کہ سچے دین کی کامل سچائی ثابت ہونے کے لئے از بس ضروری ہیں۔اس امر دوئم میں مؤلف نے اس غرض سے کہ سچائی دین اسلام کی آفتاب کی طرح روشن ہو جائے تین قسم کے نشانات ثابت کر کے دکھائے ہیں۔اوّل وہ نشان کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مخالفین نے خود حضرت ممدوح کے ہاتھ سے اور آنجناب کی دعا اور توجہ اور برکت سے ظاہر ہوتے دیکھے جن کو مؤلف یعنی اس خاکسار نے تاریخی طور پر ایک اعلیٰ درجہ کے ثبوت سے مخصوص و ممتاز کر کے درج کتاب کیا ہے۔دوم وہ نشان کہ جو خود قرآن شریف کی ذات بابرکات میں۔دائمی اور ابدی اور بے مثل طور پر پائے جاتے ہیں جن کو راقم نے بیان شافی اور کافی سے ہر ایک خاص و عام پر کھول دیا ہے۔اور کسی نوع کا عذر کسی کے لئے باقی نہیں رکھا۔سوم وہ نشان کہ جو کتاب اللہ کی پیروی اور متابعت اور رسول برحق سے کسی شخص تابع کو بطور وراثت ملتے ہیں۔جن کے اثبات میں اس بندہ درگاہ نے بفضل خداوند حضرت قادر مطلق یہ بدیہی ثبوت دکھلایا ہے کہ بہت سے بچے الہامات اور خوارق اور کرامات اور اخبار غیبیہ و اسرار لدنیہ و کشوف صادقہ اور دعائیں قبول شدہ کو جو خود اس خادم دین سے صادر ہوئی ہیں اور جن کی صداقت پر بہت سے مخالفین مذہب (آریوں وغیرہ سے )