حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 396 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 396

حیات احمد ۳۹۶ جلد دوم حصہ سوم حضرت اقدس کی زندگی میں یہ ایک عملی خصوصیت نظر آتی ہے کہ آپ اسلام پر اگر کوئی اعتراض ہوتا تو اس کے جواب دینے کے لئے اپنی بیماری اور صحت کی حالت کو بھی نہیں دیکھتے تھے۔چنانچہ ۲۹ فروری ۱۸۸۸ء کو میر عباس علی صاحب نے آپ کی خدمت میں ایک سوال تو حید کے متعلق لکھا تھا۔یہ مکتوب آپ کو مارچ ۱۸۸۴ء کی ابتدائی تاریخوں میں ملا ہو گا۔آپ اس وقت بیمار تھے اور ا ار مارچ ۱۸۸۴ ء تک بیمار تھے مگر اسی حالت میں جواب دیا۔مرزا سلطان احمد صاحب کی درخواست دعا ۱۸۸۴ء کے واقعات اور نشانات میں حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی درخواست دعا کا ایک عظیم الشان واقعہ ہے۔خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے سب سے بڑے بیٹے تھے جو آپ کی پہلی حرم محترم کے بطن سے تھے انہوں نے دنیا میں بہت بڑی ترقی کی آخر میں ڈپٹی کمشنری کے عہدے سے پنشن یاب ہوئے اور خان بہادر کا خطاب ان کو ملا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے انہوں نے ابتداء بعض کتب بھی پڑھی تھیں ان کی زندگی کے مختلف دور تھے۔انہوں نے کبھی اور کسی زمانہ میں حضرت اقدس کی صداقت اور آپ کے دعاوی کا انکار نہیں کیا۔میں ایک واقف کار کی حیثیت سے یہ بات کہتا ہوں۔البتہ حضرت اقدس کو ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے ایک زمانہ میں رنج پیدا ہوا۔مگر وہ اس عرصہ میں بھی سعادت مند رہے۔جہاں تک دستاویزی ثبوت ملتا ہے حضرت اقدس اس وقت تک جبکہ مرزا سلطان احمد صاحب لاہور میں تھے اگر کبھی لاہور تشریف لے جاتے تو ان کے پاس قیام کرتے تھے بہر حال خلافت ثانیہ میں خان بہادر نے باقاعدہ بیعت کی اور بعد وفات مقبرہ بہشتی میں اسی احاطہ میں جگہ پائی جہاں حضرت مسیح موعود کا مزار ہے۔مارچ ۱۸۸۴ء کے قریب قریب مرزا سلطان احمد صاحب نے تحصیلداری کا امتحان دیا تھا چونکہ حضرت اقدس کی دعاؤں کی قبولیت پر اُن کا ایمان تھا