حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 395 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 395

حیات احمد ۳۹۵ جلد دوم حصہ سوم ہوئے لیکن جیسا کہ مامورین کے اسی گروہ کی فطرت اور عادت میں ہے وہ بہت محتاط ہوتے ہیں حضرت اقدس بھی احتیاط اور دعاؤں سے کام لے رہے تھے اور بعض مخفی عبادتوں اور مجاہدات میں بھی مصروف تھے۔مگر یاد رہے کہ یہ عبادات اور مجاہدات ایسے نہ تھے جو خلاف شریعت یا خلاف سنت ہوں چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں۔میں نے کبھی ریاضات شاقہ بھی نہیں کیں اور نہ زمانہ حال کے بعض صوفیوں کی طرح مجاہدات شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا اور نہ گوشہ گزینی کے التزام سے کوئی چلہ کشی کی اور نہ خلاف سنت کوئی ایسا عمل رہبانیت کیا جس پر خدا تعالیٰ کے کلام کو اعتراض ہو۔بلکہ میں ہمیشہ ایسے فقیروں اور بدعت شعار لوگوں سے بیزار رہا جو انواع 66 اقسام کے بدعات میں مبتلا ہیں۔“ ( کتاب البریہ صفحہ ۱۶۳ ۱۶۴ حاشیہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۶، ۱۹۷ حاشیه ) غرض اس وقت آپ آنے والے برکات اور اپنے فرائض کو ادا کرنے کے لئے مزید توفیق اور اکتشافات کے لئے دعاؤں میں مصروف تھے براہین جلد پنجم کے لئے بھی آپ کو خیال تھا اور اس میں جو نشانات پورے ہو چکے تھے ان کے اندراج کا بھی ارادہ تھا مخالفین کی طرف سے جو سوالات براہِ راست آتے یا بعض اخبارات میں شائع ہوتے یا بعض خدام لکھ کر بھیجتے ان کے جوابات بھی دیتے اور یہ بڑی مصروفیت کا عہد تھا۔قریباً سارے کام اپنے ہاتھ سے کرتے تھے۔مہمانوں کی خاطر تواضع۔ان کے لئے کھانا لانا۔بعض کے لئے وضو کا گرم پانی لانا۔خطوط کے جواب دینا کتابوں کی پیکٹ بنانا۔اُن پر پتے لکھنا اور پوسٹ کرنا۔حیرت ہوتی ہے کہ وہ تمام کام جو اس عہد میں خود حضرت اقدس اپنے دست مبارک سے کرتے تھے اب ان کے متعلق متعدد محکمے اور ادارے قائم ہیں اور ایک دو نہیں سینکڑوں آدمی اس کام کو کر رہے ہیں۔اس عہد سعادت کے واقعات کو حالات حاضرہ کی روشنی میں جو شخص سلیم الفطرت ہوکر دیکھے گا اسے بے اختیار اعتراف کرنا پڑے گا یہ انسان کا نہیں خدا کا قائم کردہ سلسلہ ہے۔