حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 394 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 394

حیات احمد ۳۹۴ جلد دوم حصہ سوم مخالفت زوروں پر تھی اور میر صاحب بھی اخلاص کے ساتھ براہین کی اشاعت و اعانت کے کام میں مصروف تھے مگر آپ نے محسوس کیا کہ میر صاحب کو عمل صالح کی حقیقت اور رسم و عادت کے امتیاز سے واقف کرنا ضروری ہے۔بعض اوقات ایک کام کرتا ہے۔وہ بظاہر نیکی کا کام ہوتا ہے۔لیکن اس میں رضائے مولیٰ کا خیال نہیں ہوتا بلکہ رسم و عادت کا دخل ہوتا ہے اس لئے وہ ضائع ہو جاتا ہے۔اس پر آپ نے میر صاحب کو ۲۸ / فروری ۱۸۸۴ء کو عمل صالح کی حقیقت اور اس میں اور رسم و عادت میں امتیاز اور عمل صالح کے برکات پر ایک مبسوط مکتوب لکھا حالانکہ سلسلہ خط و کتابت میں ۲۶ فروری کو ہی آپ خط لکھ چکے تھے۔اس میں آپ نے بتایا کہ زیادہ تر اس بات میں کوشش کرنی چاہئے کہ کسی طرح مولیٰ کریم راضی ہو جائے ہر یک سعادت اس کی رضا سے حاصل ہوتی ہے۔اور فرمایا کہ حقیقی طور پر عمل صالح اُس عمل کو کہا جاتا ہے کہ جو ہر ایک قسم کے فساد سے محفوظ رہ کر اپنے کمال کو پہنچ جائے۔اور اپنے کمال تک کسی عمل صالح کا پہنچنا اس بات پر موقوف ہے کہ عامل کی ایسی نیت صالح ہو کہ جس میں بجز حق ربوبیت بجالانے کی اور کوئی غرض مخفی نہ ہو یعنی صرف اس کے دل میں یہ ہو کہ وہ اپنے رب کی اطاعت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور گواطاعت بجالانے پر ثواب مترتب یا عذاب مترتب ہو اور گواس کا نتیجہ آرام اور راحت ہو یا نکبت اور عقوبت ہو۔“ مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحه ۸۳ ۸۴ - مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۲۰۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اس طرح پر آپ اصلاح خلق کے کام میں مصروف تھے اور خصوصیت سے آپ دعاؤں میں لگے ہوئے تھے۔جیسا کہ واقعات شہادت دیتے ہیں۔آپ کے سلسلہ الہامات اور ان کی توضیحات سے معلوم ہوتا ہے آپ کو یہ معلوم ہو رہا تھا کہ آپ کسی امر عظیم کے لئے مامور ہو رہے ہیں اس وقت تک تو آپ یہی سمجھے ہوئے تھے کہ براہین احمدیہ کے ذریعہ حفاظت واشاعت اسلام میرا مقصد ہے لیکن براہین ہی کی تصنیف و طباعت کے ایام میں آپ پر بعض اور اسرار مخفیہ ظاہر