حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 371 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 371

حیات احمد غلام ( لڑکا ) تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے۔تیری ہی ذریت ونسل ہوگا۔جلد دوم حصہ سوم ( تذکره صفحه ۱۰۹ مطبوعه ۲۰۰۴ء) اس پیشگوئی میں لفظ تیرے ہی تخم اور تیری ہی ذریت نے ایسی حد بندی کر دی ہے کہ کسی مدعی کے لئے کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔اس پیشگوئی میں ایک اور پیشگوئی بھی تھی جو پیشگوئی میں اس طرح مل کر آئی تھی کہ عام طور پر اس کی طرف توجہ نہ گئی اور یہی خیال کیا گیا کہ یہ پہلی پیشگوئی کی ہی جزو ہے اور وہ پیشگوئی یتھی:۔خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔اس کا نام عنمو ائیل اور بشیر بھی ہے۔اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے۔وہ نور اللہ ہے۔( تذکره صفحه ۱۰۹ مطبوعه ۲۰۰۴ء) مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔“ اس پیشگوئی کو پہلی پیشگوئی کا حصہ ہی سمجھا گیا۔حالانکہ یہ پیشگوئی اُس پیشگوئی کا حصہ تھی جو ۱۸۸۱ء میں ان الفاظ میں اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَسِینِ ہم تجھے ایک حسین لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس عظیم الشان لڑکے کی پیشگوئی بذریعہ اشتہار فرما دی۔اور اسی اشتہار میں ایک اور لڑکے کی بھی پیشگوئی تھی جس کو مہمان کے نام سے ظاہر کیا گیا۔مگر سب کی توجہ اس عظیم الشان لڑکے کی طرف تو گئی۔مگر مہمان کی طرف نہ گئی۔یہ ذکر تو ضمناً آ گیا اس کی تفصیل دوسرے موقعہ پر آئے گی جبکہ میں ۱۸۸۹ء کے واقعات بیان کروں گا۔مجھے اس لئے بھی خصوصیت سے اس پر بحث کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ جناب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مرحوم نے اپنی تالیف مجد داعظم میں غیر ضروری طور پر مصلح موعود کی بحث کو چھیڑ دیا ہے وہ اب ہم میں نہیں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔اور اس خصوص میں ان کی جراحتوں اور جراتوں پر چشم پوشی فرمائے کآخر کنند دعویءِ حُبّ پیغمبرم یہ ذکر ضمناً آ گیا میں پھر اسی سلسلہ شادی کے متعلق واقعات کا ذکر کرتا ہوں۔ترجمہ:۔کیونکہ آخر میرے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔