حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 370
حیات احمد جلد دوم حصہ سوم کیا حقیقت میں وہ جو ہرات کا ڈھیر ہوتے ہیں؟ یا ان کے دماغ کا نقص ہوتا ہے اور ایسے ہی ہم نے دیکھا ہے کہ کبھی بسنے والے اور آباد گھر جب اجڑ جاتے ہیں تو جنگلوں سے آ کر گیدڑ اور بھیڑیئے اُن میں اپنا مسکن بنا لیتے ہیں اور کئی ایسے اجڑے ہوئے مکانوں میں اگو اور چمگادڑ اپنی سلطنت قائم کر لیتے ہیں۔کیا کوئی صحیح الدماغ انسان گیدڑوں اور بھیڑیوں کی وجہ سے ان مکانوں کو آباد کہہ سکتا ہے کیا اُلو ؤں اور چمگادڑوں کی آمد ورفت اور آوازوں سے کوئی عقلمند یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ وہاں بڑی گہما گہمی ہے۔ہر گز نہیں اور یہ چیزیں تو ویرانی اور بربادی کی ایک کھلی اور بین دلیل ہیں۔پس وہ لوگ جو آج یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں وہ لڑکا پیدا نہیں ہوا اور وہ جو کہتے ہیں کہ اس مادر مہربان کے بطن سے پیدا ہو ہی نہیں سکتا وہ سب در پردہ اس خدائی سلسلہ کے دشمن ہیں۔اگر چہ ان کی زبانیں اور منہ اس امر کو تسلیم نہ کریں لیکن ان کے اعمال ان کی قلمیں ، ان کے اخبار اور ان کی ساری کوششیں اس امر پر بنی ہیں کہ وہ یہ ثابت کریں کہ یہ سلسلہ سارا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی نہیں۔انہی کی ان کوششوں سے تاریکی کے پردے اسلام کے اس قصر کو خالی سمجھ کر اپنا گھونسلا بنانے کی فکر میں ہیں مگر خدا تعالیٰ کا سورج آج پوری شان کے ساتھ چمک رہا ہے۔اور کوئی تیرہ پرست اس جگہ اپنا سر چھپانے کے لئے جگہ نہیں پاسکتا۔یاد رہے ! کہ خدا تعالیٰ کے مسیح کی سچائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ لڑکا جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں ظاہر کیا گیا تھا جسے صلحائے امت اپنی پیشگوئیوں میں ہمیشہ ظاہر کرتے رہے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان الفاظ میں فرمایا :۔سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ایک زکی