حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 369
حیات احمد ۳۶۹ جلد دوم حصہ سوم یعنی ایک وہ لوگ ہیں جو راستبازی کے ساتھ ان تمام پیشگوئیوں پر ایمان رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ مسلمانوں کو عطا کی گئیں ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے سے خدا تعالیٰ کے وجود پر ایک کامل ایمان پیدا ہو اور اس کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے رسول پر بھی کامل ایمان پیدا ہو تا جب وہ اس پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھیں گے تو ان کا دل خود بخو دا ایمان کامل سے لبریز ہو جائے گا۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو منکرین ہیں ان کے نزدیک نہ کوئی مسیح موعود آنے والا تھا اور نہ اس کے ہاں کوئی موعود لڑکا پیدا ہونے والا تھا۔ان کے نزدیک یہ ساری باتیں یوں ہی خیالی اور وہمی ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتلایا کہ اس موعود دلڑکے کی پیدائش سے صدیوں کے پرانے نوشتے پورے ہو جائیں گے منکروں اور مکذبوں پر اتمام حجت ہو جائے گی خدا تعالیٰ کے قادر ہونے پر ایک عظیم الشان حجت مل سکے گی اور یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ میں إِنِّي مَعَكَ، إِنِّي مَعَكَ کہنے والا خدا تیرے ساتھ ہوں۔اس لحاظ سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ پیش گوئی کتنی شان اور کتنی عظمت کی ہے۔اگر خدانخواستہ پوری نہ ہوتی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت تو ایک طرف رہی۔اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت اور خدا تعالیٰ کی قدرت سب مشکوک ٹھہر جاتی اس لئے اس کا ٹلنا ناممکن تھا۔کیونکہ یہی وہ چیز تھی جسے حاصل کر کے خدا کا برگزیدہ نبی مظفر و منصور ٹھہرا۔یہی وہ چیز تھی جو مانگی گئی تھی اور خدا تعالیٰ نے دے دی تھی پھر کیسے ہوسکتا تھا کہ وہ دی ہوئی عطاء جس پر خدا تعالیٰ کی اپنی سچائی اور اس کے دین ، کتاب اور سید الانبیاء اور مسیح موعود کی سچائی کا انحصار ہو وہ ہی ٹل جائے اور یہ دیکھ کر کئی کمزور دماغ انسان اپنے آپ کو ان عظیم الشان پیشگوئیوں کا مصداق سمجھنے لگ جائیں ان لوگوں کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کئی دیوانے مٹی اور پتھر کے کنکر لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور وہ ان کو جواہرات کا ڈھیر سمجھ لیتے ہیں۔