حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 359 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 359

حیات احمد ۳۵۹ جلد دوم حصہ سوم بھی خط آیا ہوا ہے۔جو کچھ بھی ہو ہمیں اب جلد فیصلہ کرنا چاہئے۔میں نے کہا اچھا پھر غلام احمد کو لکھ دو چنا نچہ تمہارے نانا جان نے اسی وقت قلم دوات لے کر خط لکھ دیا۔“ ( سیرت المہدی جلد اول حصہ دوم صفحه ۴۰۰،۳۹۹ مطبوعه ۲۰۰۸ء) حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کا بیان میں صفحہ ۹۳ (موجودہ صفہ ۳۵۲تا۳۵۴) پر درج کر آیا ہوں۔حضرت نانی اماں صاحبہ رضی اللہ عنہا کے بیان میں جس حصہ کی تصحیح ضروری ہے اسے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے تحریری بیان سے کر دیتا ہوں آپ تریاق القلوب میں فرماتے ہیں۔تخمیناً سولہ برس کا عرصہ گزرا ہے کہ میں نے شیخ حامد علی اور لالہ شرمیت کھتری ساکن قادیاں اور لالہ ملا وامل کھتری ساکن قادیاں اور جان محمد مرحوم ساکن قادیاں اور بہت سے اور لوگوں کو یہ خبر دی تھی کہ خدا نے اپنے الہام سے مجھے اطلاع دی ہے کہ ایک شریف خاندان میں وہ میری شادی کرے گا اور وہ قوم کے سید ہوں گے اور اس بیوی کو خدا مبارک کرے گا اور اس سے اولاد ہوگی۔اور یہ خواب اُن ایام میں آئی تھی کہ جب میں بعض اعراض اور امراض کی وجہ سے بہت ہی ضعیف اور کمزور تھا بلکہ قریب ہی وہ زمانہ گزر چکا تھا جبکہ مجھے دق کی بیماری ہو گئی تھی اور باعث گوشہ گزینی اور ترک دنیا کے اہتمامات تأهـل سے دل سخت گا رہ تھا اور عیالدای کے بوجھ سے طبیعت متنفر تھی تو اس حالت پر ملامت کے تصور کے وقت یہ الہام ہوا تھا ہر چہ باید نوعروسی را ہمہ ساماں کنم، یعنی اس شادی میں تجھے کچھ فکر نہیں کرنا چاہئے۔ان تمام نوٹ۔ہمارا خاندان جو ایک ریاست کا خاندان تھا اس میں عادۃ اللہ اس طرح پر واقع ہوئی ہے کہ بعض ة بزرگ دادیاں ہماری شریف سادات کی لڑکیاں تھیں چنانچہ خدا تعالیٰ کے بعض الہامات میں بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس عاجز کے خون کی بنی فاطمہ کے خون سے آمیزش ہے۔اور درحقیقت وہ کشف براہین احمد یہ صفحہ ۵۰۳ کا جس میں لکھا ہے کہ میں نے دیکھا کہ میرا سر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مادر مہربان کی طرح اپنی ران پر رکھا ہوا ہے۔اس سے بھی یہ اشارہ نکلتا ہے۔الہام مندرجہ براہین صفحہ۴۹۰ میں یہ بشارت دی