حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 358 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 358

حیات احمد ۳۵۸ نانی اماں کا بیان جلد دوم حصہ سوم حضرت نانی اماں اس سلسلہ میں سیرت المہدی حصہ دوم میں بیان فرماتی ہیں۔میر صاحب نے ایک خط تمہارے ابا کے نام لکھا کہ مجھے اپنی لڑکی کے واسطے بہت فکر ہے۔آپ دعا کریں کہ خدا کسی نیک آدمی کے ساتھ تعلق کی صورت پیدا کر دے۔تمہارے ابا نے جواب میں لکھا اگر آپ پسند کریں تو میں خود شادی کرنا چاہتا ہوں۔اور آپ کو معلوم ہے کہ گومیری پہلی بیوی موجود ہے اور بچے بھی ہیں مگر آج کل میں عملاً مجرد ہی ہوں۔وغیر ذالک۔میر صاحب نے اس ڈر کی وجہ سے کہ میں بُرا مانوں گی مجھ سے اس خط کا ذکر نہیں کیا۔اور اسی عرصہ میں اور بھی کئی جگہ سے تمہاری اماں کے لئے پیغام آئے لیکن میری کسی جگہ تسلی نہ ہوئی حالانکہ پیغام دینے والوں میں سے بعض اچھے متمول آدمی بھی تھے اور بہت اصرار کے ساتھ درخواست کرتے تھے۔مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ تمہارے نانا کے بہت تعلقات تھے انہوں نے کئی دفعہ تمہارے ابا کے لئے سفارشی خط لکھا اور بہت زور دیا کہ مرزا صاحب بڑے نیک اور شریف اور خاندانی آدمی ہیں مگر میری یہاں بھی تسلی نہ ہوئی۔کیونکہ ایک تو عمر کا بہت فرق تھا۔دوسرے ان دنوں میں دہلی والوں میں پنجابیوں کے خلاف بہت تعصب ہوتا تھا بالآخر ایک دن میر صاحب نے ایک لدھیانہ کے باشندہ کے متعلق کہا کہ اس کی طرف سے بہت اصرار کی درخواست ہے اور ہے بھی وہ اچھا آدمی۔اسے رشتہ دے دو۔میں نے اس کی ذات وغیرہ دریافت کی تو مجھے شرح صدر نہ ہوا اور میں نے انکار کیا جس پر میر صاحب نے کچھ ناراض ہو کر کہا کہ لڑکی اٹھارہ سال کی ہو گئی ہے کیا ساری عمر اسے یونہی بٹھا چھوڑو گی۔میں نے جواب دیا کہ ان لوگوں سے تو پھر غلام احمد ہی ہزار درجہ اچھا ہے۔میر صاحب نے جھٹ ایک خط نکال کر میرے سامنے رکھ دیا کہ لو پھر مرزا غلام احمد کا