حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 357
حیات احمد ۳۵۷ جلد دوم حصہ سوم پس یہ مبارک جوڑا باوجود روکوں اور حالات کی ناموافقت کے خدا کی منشاء کے ماتحت نامزد ہو گیا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ وَعَلَى الِهِ وَ خُلَفَائِهِ وَ أَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ - تحریک شادی کے متعلق ایک روایت کی تصحیح حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ کا بیان اوپر درج کر دیا گیا ہے اسی سلسلہ میں آپ کی اہلیہ محترمہ (سلسلہ عالیہ میں حضرت نانی اماں کہلاتی ہیں ) رضی اللہ عنہا کا حسب ذیل بیان سیرت المہدی حصہ دوم مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب میں شائع ہوا ہے ہمیں اس بیان میں مولوی محمد حسین بٹالوی کی سپارش کا ذکر ہے۔یہاں معلوم ہوتا ہے۔حضرت نانی اماں کو سہو ہوا ہے۔اس لئے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تحریروں میں بیان کیا ہے کہ مولوی محمد حسین نے مخالفت کی تھی۔اور خود حضرت اقدس کو بھی آپ نے منع کیا تھا حضرت نانی اماں کا مقام اگر یہ رشتہ نہ بھی ہوتا تب بھی وقیع ہے وہ نہایت نیک خدا ترس اور راست باز خاتون تھیں انہیں سہو ہوا ہے۔ممکن ہے مولوی محمد حسین نے کسی اور کے لئے کہا ہو۔بہر حال اس روایت کی اصلاح آئندہ زمانہ کے مورخ کے لئے ضروری تھی پہلے میں حضرت نانی اماں کی روایت درج کرتا ہوں اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر تا کہ اس روایت کی تصحیح ہو جائے۔میں اس امر کا پھر اظہار کرتا ہوں کہ حضرت نانی اماں کے بیان میں صرف سہو کا دخل ہے۔ان کی راستبازی اور پاکبازی تو ایک اسوہ ہے۔حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ نے ان کی شان اور ان کے حسنات کا ذکر ایک خاص نظم میں کیا ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں پر بڑے بڑے فضل کرے۔آمین حمد سیرت المہدی جلد اول حصہ دوم روایت نمبر ۴۴۱ صفحه ۳۹۸ تا ۴۰۱ مطبوعه ۲۰۰۸ء