حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 356
حیات احمد ۳۵۶ جلد دوم حصہ سوم متمول تھے۔مگر نیک اور صالح نہ تھے۔حضرت میر صاحب کو دہلی کے لوگوں کے عادات اور اطوار سے سخت نفرت تھی۔اس لئے وہ تحریر فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ خدا تعالیٰ سے دعا مانگا کرتا تھا کہ میرا مربی و محسن مجھے کوئی نیک اور صالح داماد عطا فرما دے۔یہ دعا میں نے بار بار اللہ تعالیٰ کی جناب میں کی اور آخر قبول ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کے متعلق فرمایا کہ لوگ مال اور حسن کے لئے شادی کرتے مگر آپ نے فرما یا خُذُ بِذَاتِ الدِّينِ تم دیندار عورت سے شادی کرو۔بالکل اسی اصل کے ماتحت حضرت میر صاحب اپنی صاحبزادی کے لئے دیندار خاوند کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاتے تھے۔اور خدا تعالیٰ سے رشتہ مانگا کرتے تھے۔سوان دعاؤں کے صدقہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت میر صاحب کو وہ کچھ دے دیا جو انہوں نے مانگا۔یہ ایک عجیب بات ہے۔کہ اُس وقت روئے زمین پر ایک ہی انسان تھا، جو نیکوں کا سردار اور راستبازوں کا راستباز تھا۔یعنی حضرت مسیح موعود۔اور اس وقت دنیا میں ایک ہی شخص تھا ، جو کے حضور اپنی بیٹی کے رشتہ کے لئے ہمیشہ خدا کے آگے رویا کرتا تھا اور گڑ گڑایا کرتا تھا۔اور وہ تھا خدا میر ناصر نواب۔خدا نے اس کی دعاؤں کو سنا ، اور قبول کیا۔اور خود حضرت مسیح موعود کو تحریک کی۔اور خود حضرت میر صاحب اور ان کی حرم کے دل میں باقی سب رشتوں سے نفرت پیدا کر کے صرف اور صرف حضرت مسیح موعود کے لئے انشراح پیدا کر دیا اس طرح سے یہ ابتدائی مراحل طے ہو کر اس مبارک اور مقدس جوڑے کی نسبت قرار پا گئی جس سے ایک نئی دنیا۔ایک نیا خاندان۔ایک نیا قصر امن تعمیر ہونے والا تھا۔جس رشتہ کے ذریعہ بنے والی دلہن خدیجہ ثانیہ بننے والی تھی۔اور خدیجہ ثانیہ کا شوہر بروز محمد بن کر جلوہ افروز ہونے والا تھا۔جس جوڑے کے عالم وجود میں لانے کی ایک غرض ایک موعود بیٹا جس کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ کی بشارت سے دی تھی پیدا کرنا تھا۔اور ایک پاک نسل پیدا کرنی تھی جن کی مخالفت مخالفوں کو یزیدی اور جن کی محبت سعادت اور خدا تعالیٰ کی رضا کا موجب بنانے والی ہے۔