حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 329 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 329

حیات احمد ۳۲۹ جلد دوم حصہ سوم نہیں دیکھ لی اور یہ بھی سوچنا چاہئے تھا کہ تمام دنیا کا مقابلہ کرنا کیسا مشکل امر ہے اور کس قدر مشکلات کا ہمیں سامنا پیش آ گیا ہے اور جو کچھ زمانہ کی حالت موجودہ اپنے روز افزوں فساد کی وجہ سے جدید در جدید کوششیں ہم پر واجب کرتی جاتی ہے وہ کس قدر زمانہ کو چاہتی ہیں۔ماسوا اس کے ایسے بدظن خریدار اگر چاہیں تو خود بھی سوچ سکتے ہیں کہ کیا ان کے پانچ یا دس روپیہ لے کر ان کو بکلی کتاب سے محروم رکھا گیا۔کیا ان کو کتاب کی وہ ۳۶ جزو نہیں پہنچ چکیں۔جو بہت سے حقائق و معارف سے پر ہیں۔کیا یہ سچ نہیں کہ براہین کا حصہ جس قدر طبع ہو چکا وہ بھی ایک ایسا جواہرات کا ذخیرہ ہے کہ جو شخص اللہ جل شانہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہو بلا شبہ اس کو اپنے پانچ یا دس روپیہ سے زیادہ قیمتی اور قابل قدر سمجھے گا۔میں یقیناً یہ بات کہتا ہوں اور میرا دل اس یقین سے بھرا ہوا ہے کہ جس طرح میں نے محض اللہ جَلَّ شَانُہ کی توفیق اور فضل اور تائید سے براہین کے حصص موجودہ کی نثر اور نظم کو جو دونوں حقائق اور معارف سے بھری ہوئی ہیں تالیف کیا ہے اگر حال کے بدظن خریدار ان ملاؤں کو جنہوں نے تکفیر کا شور مچارکھا ہے اس بات کے لئے فرمائش کریں کہ وہ اسی قدر نظم اور نثر جس میں زندگی کی روح ہو اور حقائق و معارف بھرے ہوئے ہوں دس برس تک تیار کر کے ان کو دیں اور اسی قدر کی پچاس پچاس روپیہ قیمت لیں تو ہرگز ان کے لئے ممکن نہ ہوگا۔اور مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ جو نور اور برکت اس کتاب کی نثر اور نظم میں مجھے معلوم ہوتی ہے اگر اس کا مؤلف کوئی اور ہوتا اور میں اس کے اسی قدر کو ہزار روپیہ کی قیمت پر بھی خریدتا تو بھی میں اپنی قیمت کو اس کے ان معارف کے مقابل پر جو دلوں کی تاریکی کو دور کرتے ہیں ناچیز اور حقیر سمجھتا۔اس بیان سے اس وقت صرف مطلب یہ ہے کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ بقیہ کتاب کے دینے میں معمول سے بہت زیادہ توقف ہوا لیکن بعض خریداروں کی طرف سے بھی یہ ظلم صریح ہے کہ انہوں نے اس عجیب کتاب کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا