حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 330
حیات احمد جلد دوم حصہ سوم طبعی، اور ذرا خیال نہیں کیا کہ ایسی اعلیٰ درجہ کی تالیفات میں کیا کچھ مؤلفین کو خون جگر کھانا پڑتا ہے اور کس طرح موت کے بعد وہ زندگی حاصل کرتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ایک لطیف اور آبدار شعر کے بنانے میں جو معرفت کے نور سے بھرا ہوا ہو اور گرتے ہوئے دلوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اوپر کو اٹھا لیتا ہو کس قدر فضل الہی درکار ہے اور کس قدر وقت خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔پھر اگر ایسے آبدار اور پر معارف اشعار کا ایک مجموعہ ہو تو ان کے لئے کس قدر زمانہ درکار ہو گا۔ایسا ہی نثر کا بھی حال ہے۔جاندار کتابیں بغیر جانفشانی کے تیار نہیں ہوتیں اور بعض منتقد مین ایک ایک کتاب کی تالیف میں عمریں بسر کرتے رہے ہیں۔امام بخاری نے سولہ برس میں اپنی صحیح کو جمع کیا حالانکہ صرف کام اتنا تھا کہ احادیث صحیحہ جمع کی جائیں۔پھر جس شخص کا یہ کام ہو کہ زمانہ موجودہ کے علم طب علم فلسفہ کے ان امور کو نیست و نابود کرے جو ثابت شدہ صداقتیں سمجھی جاتی ہیں اور ایک معبود کی طرح پوجی جارہی ہیں اور بجائے اُن کے قرآن کا سچا اور پاک فلسفہ دنیا میں پھیلا دے اور مخالفوں کے تمام اعتراضات کا استیصال کر کے اسلام کا زندہ مذہب ہونا اور قرآن کریم کا منجاب اللہ ہونا اور تمام مذاہب سے بہتر اور افضل ہونا ثابت کر دیوے۔کیا یہ تھوڑا سا کام ہے۔میں خوب جانتا ہوں کہ جن لوگوں نے اس عاجز کی نسبت اعتراض کئے ہیں کہ ہمارا روپیہ لے کر کھا لیا اور ہم کو کتاب کا بقیہ اب تک نہیں دیا۔انہوں نے کبھی توجہ اور انصاف سے کتاب براہین احمدیہ کو پڑھا نہیں ہوگا۔اگر وہ کتاب کو پڑھتے تو اقرار کرتے کہ ہم نے براہین کا زیادہ اس سے پھل کھایا ہے اور اس مال سے زیادہ مال لیا ہے جو ہم نے اپنے ہاتھ سے دیا۔اور نیز یہ بھی سوچتے کہ اگر ایسی اعلیٰ درجہ کی تالیفوں کی تعمیل میں چند سال توقف ہو جائے تو بلاشبہ ایسا توقف ملامتوں کے لائق نہیں ہوگا۔اور اگر ان میں انصاف ہوتا تو وہ دغا باز اور بددیانت کہنے کے وقت کبھی یہ بھی سوچتے کہ اس عظیم الشان کام کا انجام دینا اور اس خوبی کے ساتھ اتمام حجت