حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 328
حیات احمد ۳۲۸ جلد دوم حصہ سوم تو پھر بھی موجودہ زمانہ کے مفاسد ان سے بڑھے ہوئے ہیں اور عقلی اور نقلی ضلالتوں کا ایک ایسا طوفان چل رہا ہے جس کی نظیر صفحہ دنیا میں نہیں پائی جاتی اور جو ایسا دلوں کو ہلا رہا ہے کہ قریب ہے کہ بڑے بڑے عقلمند اس سے ٹھو کر کھاویں تب ان آفات کو دیکھ کر یہ قرین مصلحت سمجھا گیا کہ اس کتاب کی تالیف میں جلدی نہ کی جائے اور ان تمام مفاسد کی بیخ کنی کے لئے فکر اور عقل اور دعا اور تضرع سے پورا پورا کام لیا جائے اور نیز صبر سے اس بات کا انتظار کیا جائے کہ براہین کے چاروں حصوں کے شائع ہونے کے بعد کیا کچھ مخالف لوگ لکھتے ہیں۔اور اگر چہ معلوم تھا کہ بعض جلد باز لوگ جو خریدار کتاب ہیں وہ طرح طرح کے ظنوں میں مبتلا ہوں گے۔اور اپنے چند درم کو یاد کر کے مؤلف کو بددیانتی کی طرف منسوب کریں گے۔چونکہ دل پر یہی غالب تھا کہ یہ کتاب رطب و یابس کا مجموعہ نہ ہو بلکہ واقعی طور پر حق کی ایسی نصرت ہو کہ اسلام کی روشنی دنیا میں ظاہر ہو جائے۔اس لئے ایسے جلد بازوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی گئی اور اس بات کو خدا تعالیٰ بخوبی جانتا ہے اور شاہد ہونے کے لئے وہی کافی ہے کہ اگر پوری تحقیق اور تدقیق کا ارادہ نہ ہوتا تو اس قدر عرصہ میں جو براہین کی تعمیل میں گزر گیا ایسی نہیں تھیں کتابیں شائع ہو سکتی تھیں۔مگر میری طبیعت اور میرے نورِ فطرت نے اس بات کو قبول نہ کیا کہ صرف ظاہری طور پر کتاب کو کامل کر کے دکھلا دیا جائے گو حقیقی اور واقعی کمال اس کو حاصل نہ ہو۔ہاں یہ بات ضرور تھی کہ اگر میں ایسا کرتا اور واقعی حقیقت کو مدنظر نہ رکھتا تو لوگ بلاشبہ خوش ہو جاتے لیکن حقیقی راست بازی کا ہمیشہ یہ تقاضا ہوتا ہے کہ مستعجل لوگوں کی لعنت ملامت کا اندیشہ نہ کر کے واقعی خیر خواہی اور غم خواری کو مدنظر رکھا جائے۔یہ سچ ہے کہ اس دس برس کے عرصہ میں کئی خریدار دنیا سے گزر بھی گئے اور کئی لمبے انتظاروں میں پڑ کر نومید ہو گئے لیکن ساتھ اس کے ذرہ انصاف سے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا وہ لوگ کتاب کے دیکھنے سے بکلی محروم گئے اور کیا انہوں نے ۳۶ جزو کی کتاب پر از حقائق ومعارف