حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 318 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 318

حیات احمد ۳۱۸ جلد دوم حصہ سوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات صحابہ نے رکھے تھے۔پھر میں نے عرض کیا کہ حضور خدا کے واسطے میرا ایک سوال ہے فرمایا کہو کیا ہے؟ عرض کیا کہ حضور یہ کر تہ تبرکا مجھے دے دیں۔فرمایا نہیں یہ تو ہم نہیں دیتے۔میں نے عرض کیا حضور نے ابھی تو فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات صحابہ نے رکھے۔اس پر فرمایا کہ یہ گر تہ میں اس واسطے نہیں دیتا کہ میرے اور تیرے مرنے کے بعد اس سے شرک پھیلے گا۔اس کی لوگ پوجا کریں گے۔اس کو لوگ زیارت بنالیں گے۔میں نے عرض کیا کہ حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات سے شرک نہ پھیلا۔فرمایا میاں عبداللہ دراصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات جن صحابہ کے پاس تھے وہ مرتے ہوئے وصیتیں کر گئے کہ ان تبرکات کو ہمارے کفن کے ساتھ دفن کر دینا چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔جو تبرک جن صحابہ کے پاس تھا وہ ان کے کفن کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں بھی مرتا ہوا وصیت کر جاؤں گا کہ یہ کرتہ میرے کفن کے ساتھ دفن کر دیا جاوے۔فرمایا ہاں اگر یہ عہد کرتے ہو تو لے لو۔چونکہ وہ جمعہ کا دن تھا۔تھوڑی دیر کے بعد حضور نے غسل کر کے کپڑے بدلے اور میں نے یہ کرتہ سنبھال لیا۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ابھی آپ نے یہ کرتہ پہنا ہی ہوا تھا کہ دو تین مہمان جو ارد گرد سے آئے ہوئے تھے۔ان سے میں نے اس نشان کا ذکر کیا وہ پھر حضرت صاحب کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میاں عبداللہ نے ہم سے ایسا بیان کیا ہے۔حضور نے فرمایا۔ہاں ٹھیک ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ حضور یہ کرتہ ہم کو دے دیں۔ہم سب تقسیم کر لیں گے۔کیوں کہ ہم سب کا اس میں حق ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا ہاں لے لینا اور ان سے کوئی شرط اور عہد وغیرہ نہیں لیا۔مجھے اس وقت بہت فکر ہوا کہ یہ نشان میرے ہاتھ سے گیا۔اور میرے دل میں بہت گھبراہٹ پیدا ہوئی اس لئے میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور اس کرتہ پر آپ کا کوئی اختیار نہیں کیونکہ یہ میری ملک ہو چکا ہے۔میرا اختیار ہے میں ان کو دوں یا نہ دوں کیونکہ میں حضور سے اس کو لے چکا ہوں۔اس وقت حضور نے مسکرا کر فرمایا کہ ہاں یہ تو میاں عبداللہ ہم سے لے چکے ہیں۔اب ان کا اختیار ہے یہ تمہیں دیں نہ دیں پھر انہوں نے مجھ سے بڑے اصرار سے مانگا مگر میں نے انکار کر دیا۔میاں عبداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ آج تک اس کر نہ پر سرخی کے ویسے ہی داغ موجود ہیں کوئی تغیر نہیں ہوا۔اور اس کرتہ کے کپڑے کو پنجابی میں نینو