حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 317
حیات احمد ۳۱۷ جلد دوم حصہ سوم باہر سے آیا ہے اور ان کے نیچے کا مصلی نکال کر لے گیا ہے۔جب وہ بیدار ہوئے تو دیکھا کہ فی الواقع مصلی ان کے نیچے نہیں تھا۔جب دن نکلنے پر حجرہ سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مصلی صحن میں پڑا ہے۔یہ واقعات سنا کر حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ کشف کی باتیں تھیں مگر خدا تعالیٰ نے اُن بزرگوں کی کرامت ظاہر کرنے کے لئے خارج میں ان کا وجود ظاہر کر دیا۔اب ہمارا قصہ سنو۔جس وقت تم حجرہ میں ہمارے پاؤں دبا رہے تھے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت وسیع اور مصفی مکان ہے اس میں ایک پلنگ بچھا ہوا ہے اور اس پر ایک شخص حاکم کی صورت میں بیٹھا ہے میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ اَحْكَمُ الْحَاكَمین یعنی رب العلمین ہیں اور میں اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہوں جیسے حاکم کا کوئی سر رشتہ دار ہوتا ہے۔میں نے کچھ احکام قضاء و قدر کے متعلق لکھے ہیں اور اُن پر دستخط کرانے کی غرض سے ان کے پاس لے چلا ہوں جب میں پاس گیا تو انہوں نے مجھے نہایت شفقت سے اپنے پاس پلنگ پر بٹھا لیا اس وقت میری ایسی حالت ہوگئی کہ جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے بچھڑا ہوا سالہا سال کے بعد ملتا ہے اور قدرتاً اس کا دل بھر آتا ہے یا شاید فرمایا اس کو رقت آ جاتی ہے اور میرے دل میں اس وقت یہ بھی خیال آیا کہ یہ احکم الحاکمین یا فرما یارب العالمین ہیں اور کس محبت اور شفقت سے انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا ہے۔اس کے بعد میں نے وہ احکام جو لکھے تھے دستخط کرانے کی غرض سے پیش کئے۔انہوں نے قلم سرخی کی دوات میں جو پاس پڑی تھی ڈبویا اور میری طرف جھاڑ کر دستخط کر دیئے۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے قلم کے جھاڑنے اور دستخط کرنے کی حرکتوں کو خود اپنے ہاتھ کی حرکت سے بتایا تھا کہ یوں کیا تھا۔پھر حضرت صاحب نے فرمایا یہ وہ سرخی ہے جو اس قلم سے نکلی ہے۔پھر فرمایا دیکھو کوئی قطرہ تمہارے اوپر بھی گرا؟ میں نے اپنے کرتے کو ادھر ادھر سے دیکھ کر عرض کیا حضور میرے پر تو کوئی نہیں گرا۔فرمایا کہ تم اپنی ٹوپی پر دیکھو۔ان دنوں میں ململ کی سفید ٹوپی میرے سر پر ہوتی تھی میں نے وہ ٹوپی اتار کر دیکھی تو ایک قطرہ اس پر بھی تھا مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے عرض کیا حضور میری ٹوپی پر بھی ایک قطرہ ہے پھر میرے دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ یہ کر نہ بڑا مبارک ہے اس کو تبر کالے لینا چاہئے۔پہلے میں نے اس خیال سے کہ کہیں حضور جلدی انکار نہ کر دیں حضور سے مسئلہ پوچھا کہ حضور کسی بزرگ کا کوئی متبرک کپڑے وغیرہ کا لے کر رکھنا جائز ہے؟ فرمایا ہاں جائز ہے۔