حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 316
حیات احمد جلد دوم حصہ سوم میں نے اسے اس لئے سونگھا تھا کہ اسی وقت میرے دل میں یہ خیال آیا تھا کہ یہ کوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بات ہے اس لئے اس میں کوئی خوشبو ہو گی۔پھر میں دبا تا دباتا پسلیوں کے پاس پہنچا وہاں میں نے اسی سرخی کا ایک اور بڑا قطرہ کرتہ پر دیکھا۔اس کو بھی میں نے ٹولا تو وہ بھی گیلا تھا۔اس وقت پھر مجھے حیرانی سی ہوئی کہ یہ سرخی کہاں سے آگئی ہے پھر میں چار پائی سے آہستہ سے اٹھا کہ حضرت صاحب جاگ نہ اٹھیں۔اور پھر اس کا نشان تلاش کرنا چاہا کہ یہ سرخی کہاں سے گری ہے۔بہت چھوٹا سا حجرہ تھا۔چھت میں ارد گرد میں نے اس کی خوب تلاش کی مگر خارج میں مجھے اس کا کہیں پتہ نہیں چلا کہ کہاں سے گری ہے۔مجھے یہ بھی خیال آیا کہ کہیں چھت پر کسی چھپکلی کی دم کٹی ہو تو اس کا خون گرا ہو اس لئے میں نے غور کے ساتھ چھت پر بھی نظر ڈالی مگر اس کا کوئی نشان نہیں پایا۔پھر آخر میں تھک کر بیٹھ گیا اور بدستور دبانے لگ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب اٹھ کر بیٹھ گئے اور پھر حجرہ میں سے نکل کر مسجد میں جا کر بیٹھ گئے۔میں وہاں پیچھے بیٹھ کر آپ کے مونڈھے دبانے لگ گیا۔اس وقت میں نے عرض کیا کہ حضور یہ آپ پر سرخی کہاں سے گری ہے۔حضور نے بہت بے تو جہی سے فرمایا کہ آموں کا رس ہو گا اور مجھے ٹال دیا۔میں نے دوبارہ عرض کیا کہ حضور یہ آموں کا رس نہیں یہ تو سرخی ہے۔اس پر آپ نے سر مبارک کو تھوڑی سی حرکت دے کر فرمایا ” کتھے ہے؟ یعنی کہاں ہے؟ میں نے کرتہ پر وہ نشان دکھا کر کہا کہ یہ ہے اس پر حضور نے کرتے کو سامنے کی طرف کھینچ کر اور اپنے سر کو ادھر پھیر کر اس قطرہ کو دیکھا۔پھر اُس کے متعلق مجھ سے کچھ نہیں فرمایا بلکہ رویت باری اور امور کشوف کے خارج میں وجود پانے کے متعلق پہلے بزرگوں کے دو ایک واقعات مجھے سنائے اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی ہستی وراء الوراء ہے اس کو یہ آنکھیں دنیا میں نہیں دیکھ سکتیں البتہ اس کی بعض صفات جمالی یا جلالی متمثل ہو کر بزرگوں کو دکھائی دے جاتی ہیں۔شاہ عبد القادر صاحب لکھتے ہیں کہ مجھے کئی دفعہ خدا تعالیٰ کی زیارت اپنے والد کی شکل میں ہوئی ہے۔نیز شاہ صاحب فرماتے ہیں۔کہ ایک دفعہ مجھے اللہ تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور خدا تعالیٰ نے مجھے ایک ہلدی کی گٹھی دی کہ یہ میری معرفت ہے اسے سنبھال کر رکھنا۔جب وہ بیدار ہوئے تو ہلدی کی گٹھی ان کی مٹھی میں موجود تھی۔اور ایک بزرگ جن کا حضور نے نام نہیں بتایا تہجد کے وقت اپنے حجرہ کے اندر بیٹھے مصلی پر کچھ پڑھ رہے تھے کہ انہوں نے کشف میں دیکھا کہ کوئی شخص