حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 315 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 315

حیات احمد ۳۱۵ جلد دوم حصہ سوم مباہلہ کے لئے تیار ہو گئے اور امرتسر جا پہنچے۔مگر مولوی صاحب کو جرات مقابلہ نہ ہوئی۔میں اس واقعہ کا بیان خود حضرت منشی صاحب مرحوم کی زبانی سے درج کرتا ہوں جو انہوں نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سے بیان کیا اور آپ نے سیرت المہدی جلد اول کی روایت نمبر ( ۲۰ ) میں بیان درج کیا ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ غالباً یہ ۱۸۸۲ء کی بات ہے کہ ایک دفعہ ماہ جیٹھ یعنی مئی جون میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں نماز فجر پڑھ کر اس کے ساتھ والے غسل خانہ میں جو تازہ پلستر ہونے کی وجہ سے ٹھنڈا تھا ایک چارپائی پر جو وہاں بچھی رہتی تھی جالیے۔چارپائی پر بستر اور تکیہ وغیرہ کوئی نہ تھا۔حضرت کا سر قبلہ کی طرف اور منہ شمال کی طرف تھا۔ایک کہنی آپ نے سر کے نیچے بطور تکیہ کے رکھ لی اور دوسری اسی صورت میں سر کے اوپر ڈھانک لی میں پاؤں دبانے بیٹھ گیا۔وہ رمضان کا مہینہ تھا اور ستائیس تاریخ تھی۔اور جمعہ کا دن تھا۔اس لئے میں دل میں بہت مسرور تھا کہ میرے لئے ایسے مبارک موقعے جمع ہیں۔یعنی حضرت صاحب جیسے مبارک انسان کی خدمت کر رہا ہوں۔وقت فجر کا ہے۔جو مبارک وقت ہے۔مہینہ رمضان کا ہے۔جو مبارک مہینہ ہے۔تاریخ ستائیس اور جمعہ کا دن ہے۔اور گزشتہ شب شب قدر تھی کیونکہ میں نے حضرت صاحب سے سنا ہوا تھا کہ جب رمضان کی ستائیس تاریخ اور جمعہ مل جاویں۔تو وہ رات یقیناً شب قدر ہوتی ہے۔میں انہی باتوں کا خیال کر کے دل میں مسرور ہو رہا تھا کہ حضرت صاحب کا بدن یکلخت کانپا اور اس کے بعد حضور نے آہستہ سے اپنے اوپر کی کہنی ذرا ہٹا کر میری طرف دیکھا اس وقت میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔اس کے بعد آپ نے پھر اسی طرح اپنی کہنی رکھ لی۔میں دباتے دباتے حضرت صاحب کی پنڈلی پر آیا تو میں نے دیکھا کہ حضور کے پاؤں پر ٹھنے کے نیچے ایک اٹن یعنی سخت سی جگہ تھی۔اس پر سرخی کا ایک قطرہ پڑا تھا جو بھی تازہ گرے ہونے کی وجہ سے بستہ تھا۔میں نے اسے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی لگا کر دیکھا کہ کیا ہے۔اس پر وہ قطرہ ٹخنے پر بھی پھیل گیا اور میری انگلی پر بھی لگ گیا۔پھر میں نے اسے سونگھا کہ شاید اس میں کچھ خوشبو ہومگر خوشبو نہیں تھی۔حواله از جدید ایڈیشن۔سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۱۰۰ صفحه ۷۲ تا ۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء