حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 305 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 305

حیات احمد ۳۰۵ جلد دوم حصہ سوم نہیں کر سکتا۔آخری وقت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو موقعہ دیا کہ وہ گورداسپور تبدیل ہو کر آگئے جس کی ان کو بڑی آرزو تھی اور قیام گورداسپور میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے اور سلسلہ کی خدمت کا بہت موقعہ ملتا تھا۔ان کا گھر ایک مہمان خانہ تھا۔جہاں ہمیشہ بعض احمدی احباب موجود رہتے تھے چودھری صاحب شب زندہ دار تھے۔وہ التزاماً تہجد پڑھتے تھے اور سلسلہ کی تبلیغ اپنے ملنے والوں کو کرتے رہتے تھے۔اور ان کے افسروں اور ماتحتوں اور دوسرے متعلق لوگوں کے لئے خود اُن کا وجود ہی تبلیغ تھا۔جب چودھری صاحب کا سلسلہ کے ساتھ تعلق شروع ہوا اس وقت وہ سارجنٹ تھے۔جس کو آج کل ہیڈ کانسٹبل کہا جاتا ہے۔اور ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے محرر پیشی کے عہدہ پر مامور تھے حضرت اقدس جب ان کو خط لکھتے تو پتہ اس طرح لکھتے :۔مقام جالندھر خاص۔محکمہ پولیس بخدمت مشفقی مکرمی منشی رستم علی صاحب محرر پیشی محکمہ پولیس کے پہنچے آخری ایام اپنی ملازمت سے سبکدوش ہو کر انہوں نے وظیفہ لے کر قادیان میں سکونت اختیار کر لی اور صدر انجمن نے انہیں افسر بیت المال مقرر کیا اور لنگر خانہ کا انتظام بھی ان کے سپرد کیا گویا بوقت واحد آج کل کی اصطلاح میں ناظر بیت المال اور ناظر ضیافت تھے اور اس کام کو وہ اس حد تک آنریری کرتے تھے کہ اپنا کھانا بھی لنگر سے نہ کھاتے تھے اس کا وہاں انتظام بھی نہ تھا تا کہ ایسا نہ ہو لنگر خانہ کی اجناس میں سے کچھ لے لیا جاوے حالانکہ ان کے لئے حلال طیب تھا مگر انہوں نے اس للہی خدمت کے معاوضہ میں کچھ بھی لینا پسند نہ کیا اور اپنی خدمت کو خالصتاً لِلہ رکھا۔یہ پہلا سال تھا جو حضرت اقدس کی وفات کا تھا۔سالانہ جلسہ میں انہوں نے شبانہ روز اس قدر محنت کی کہ آخر وہ بیمار ہو گئے اور اسی علالت میں جنت الفردوس کو سدہارے۔ان کی وفات پر میں نے جو نوٹ الحکم میں لکھا اُسے اپنے بہت ہی پیارے بھائی کی یاد میں یہاں درج کر دیتا ہوں تا کہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہو کہ ان کے بزرگوں میں جان شماری اور سلسلہ کے لئے وفاداری اور خدمت کا کیا مقام تھا۔چودھری صاحب آیات اللہ میں سے تھے اور حضرت اقدس کو ان کے نام کے ساتھ وحی بھی ہوئی تھی۔