حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 306 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 306

حیات احمد جلد دوم حصہ سوم چودھری رستم علی" یہ اس وحی کے الفاظ ہیں جو ۲۶ / مارچ ۱۹۰۵ء کو حضرت حجتہ اللہ مسیح موعود علیہ السلام کو ہوئی اور یہ نام ہے ہمارے ایک نہایت ہی مخلص اور صادق بھائی کا جس کی وفات کی خبر میں لکھ رہا ہوں۔جنہوں نے قادیان دارالامان میں !ار جنوری ۱۹۰۹ء کوقبل دو پہر ۶ یوم بیمار رہ کر عالم آخرت کی راہ لی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔اسی تاریخ کو انہیں مقبرہ بہشتی میں دفن کیا گیا۔چودھری رستم علی صاحب ہماری جماعت میں ایک بڑے ہی مخلص اور قابل تقلید احمدی تھے۔وہ محکمہ پولیس میں ۱۳۳ برس تک نہایت نیک نامی اور قابلیت کے ساتھ ایک معمولی کانسٹبل۔انسپکٹر پولیس کے درجہ تک پہنچے اور اسی عہدہ پر انہوں نے پینشن لی۔پنشن لے کر وہ مہاجر بن کر قادیان آگئے اور ایسے آئے کہ پھر نہ گئے۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تاریخ میں ہمیشہ ان کا نام زندہ رہے گا اس لئے کہ وہ فی الحقیقت زندہ ہیں۔ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق ثبت است برجریده عالم دوام ما نیاز مند ایڈیٹر الحکم کو چوہدری صاحب سے اس وقت سے نیاز حاصل ہے جب وہ ایک سارجنٹ تھے اور ایڈیٹر الحکم دوم مڈل کا ایک طالب علم۔انہیں ایام میں براہین احمدیہ اور سُرمہ چشم آریہ کا مطالعہ چودھری صاحب کیا کرتے تھے اور خاکسار ایڈیٹر الحکم بھی ان کتابوں کو بدوں سمجھنے کے یا بہت ہی کم سمجھنے کے سن لیا اور پڑھ لیا کرتا تھا۔اس لمبے عرصے میں چودھری صاحب مختلف مقامات پر پھرتے پھراتے رہے اور آخر انسپکٹر پولیس ہو گئے اور ایڈیٹر الحکم طالب علمی کے زمانہ سے نکل کر ملازمت کے مزے چکھ کر اسے چھوڑ کر پھر ایسی جگہ آ پہنچا۔جہاں اس نے اپنے ایک قدیم شناسا کو اپنے ساتھ ایک ہی باپ کا بیٹا پایا۔ترجمہ۔وہ شخص ہر گز نہیں مرتا جس کا دل عشق سے زندہ ہو گیا ہو ہمارا ہمیشہ رہنا کائنات کی تختی پر کندہ کیا ہوا ہے۔