حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 301 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 301

حیات احمد ۳۰۱ جلد دوم حصہ سوم اور وہ اسی سال ۱۸۸۴ء میں حضرت کے ارادت مندوں میں داخل ہوئے حضرت چوہدری رستم علی صاحب رضی اللہ عنہ مدار ضلع جالندھر کے ایک معزز اور شریف خاندان اعوان کے رکن تھے اور ان کی ابتدائی تعلیم مسلمانوں کے قدیم طریق تعلیم پر ہوئی تھی فارسی پر انہیں پورا عبور تھا۔اور عربی کی بھی ابتدائی کتابیں پڑھی تھیں۔اور محکمہ پولیس میں ملازم ہوئے۔وہ چونکہ تعلیم یافتہ تھے اس لئے بقیہ حاشیہ:۔ذکر کروں جو میری معرفی کا موجب ہوا۔اور اس کے لحاظ سے میں ان کو اپنے محسنوں میں یقین کرتا ہوں۔وہ محکمہ پولیس میں جیسا کہ متن میں ذکر آیا ملازم تھے میں ۱۸۸۵ء میں پرائمری اسکول پاس کر کے مڈل اسکول کی پہلی جماعت میں شریک تھا ہمارے ہیڈ ماسٹر مولوی سید غلام محی الدین صاحب تھے اس زمانہ میں ہماری جماعت کے مسلمان طلباء علی العموم دیندار اور باجماعت نماز کے پابند تھے اور ان میں سے بعض بالآخر سلسلہ احمدیہ میں بھی داخل ہو گئے بلکہ ایک جماعت قائم کرنے والے ہوئے جیسے حضرت مولوی امام الدین صاحب آف کریم پور ( رضی اللہ عنہ ) مولوی سید غلام محی الدین صاحب کے پاس براہین احمد یہ نہایت خوبصورت مجلد تھی اور وہ اسے اپنے صندوقچہ میں رکھتے اور اکثر پڑھتے تھے ہم سب جہاں نماز پڑھتے حضرت چوہدری رستم علی صاحب بھی وہاں آتے۔اور شریک نماز ہوتے ان کے چہرہ پر ٹور، باتوں میں مٹھاس اور رفتار و گفتار میں فروتنی اور انکساری نمایاں تھی۔مجھے یہ خیال ہوا کہ یہ کیا کتاب ہے جس کو مولوی غلام محی الدین صاحب بڑے شوق و ذوق سے پڑھتے ہیں وہ دو پہر کو آرام کرنے کے لئے اپنے ایک حجرہ میں چلے جاتے ایک دن دو پہر کے وقت میں نے اس کتاب کو نکالا اور پاس کے باغ میں جا کر ورق گردانی کرنے لگا۔کچھ سمجھ میں آتا نہ تھا اور میرے لئے ایک ہی گھنٹہ کا وقفہ تھا آخر میری نظر اس نظم پر پڑی جو جمال وحسن قرآن نور جان ہر مسلمان ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے اس مضمون کی ندرت اور رفعت نے میرے دل پر ایک خاص اثر کیا بعد میں معلوم ہوا کہ یہ چوہدری صاحب کی کتاب ہے چودھری صاحب کے تعلقات مولوی غلام محی الدین صاحب سے ہمیشہ ویسے ہی رہے جو میرے اخبار الحکم کے خریدار بھی تھے اور اسی زمانہ میں ان سے ایک مرتبہ ملاقات کا موقعہ ملا تو باوجود یکہ میں ان کا شاگر د تھا۔انہوں نے میرے ساتھ بڑے اخلاص و اکرام کا برتاؤ کیا (جَزَاهُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء)