حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 300
حیات احمد ۳۰۰ جلد دوم حصہ سوم کامل طور پر ستایا نہیں گیا۔اگر لوگ خدا کے بندوں کو کہ جو اس کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں یونہی ان کی شکل ہی دیکھ کر قبول کر لیتے تو بہت عجائبات تھے کہ ان کا ہرگز دنیا میں ظہور نہ ہوتا۔“ مکتوب مورخه ۲۶ فروری ۱۸۸۴ء مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحه ۸۲ مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۹۸ مطبوعه ۲۰۰۸ء) غور کرو کہ آپ کے کلام میں ایک ہی رنگ ہے اور آپ اپنے مقام ماموریت کی شان وہی یقین کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے نبیوں کی ہوتی ہے اپنے معاملہ کو اسی اصل پر پیش کرتے ہیں اور آپ کے قلب میں ایک ایسی سکیت اور اطمینان ہے کہ دنیا کی مخالفت اسے ہلا نہیں سکتی بلکہ آپ اپنی سکینت اور تسلی کا اثر دوسروں پر بھی ڈالتے ہیں۔جیسے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ پر ڈالا اور خدا کی وحی نے یوں تصدیق کی۔لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا - یہ ایک طوفان مخالفت تھا جو ایک ہیبت ناک طریق پر اٹھا مگر آپ اس طوفان میں ایک چٹان کی طرح کھڑے رہے۔جس کے ساتھ طوفانی لہریں آکر ٹکراتی ہیں اور نا کام واپس ہو جاتی ہیں اس زمانہ میں کفر کا ہتھیار بڑا سمجھا جاتا تھا اور بڑے سے بڑے حوصلہ والا آدمی بھی علماء کے اس ہتھیار سے گھبراتا تھا۔مگر آپ کو اس کی پرواہ نہ تھی یہ طوفان مخالفت ترقی کرتا چلا گیا اور اندر اور باہر سے۔یہ دشمنوں کے منصوبوں اور سازشوں کا جال پھیلتا گیا۔یہاں تک کہ اپنے پرائے الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ ** ہو کر ایک صف میں کھڑے ہو گئے اور مولوی ابوسعید محمد حسین اور میر عباس علی صاحب بھی انہیں لوگوں میں جا ملے مگر آپ پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوا۔اس طوفان مخالفت میں اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور نصرتوں کا ظہور عجیب رنگ میں ہونے لگا باوجود اس کے ابھی آپ کی طرف سے بیعت لینے کا اظہار نہ ہوا تھا اس لئے کہ آپ اس کے لئے مامور نہ تھے مگر اللہ تعالیٰ کے فرشتے پاک اور سعید روحوں کو اس طرف متوجہ کر رہے تھے اور وہ نہایت اخلاص اور کامل ایثار و نیازمندی کی روح لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے چنانچہ انہیں میں سے ایک بزرگ حضرت چودھری رستم علی صاحب رضی اللہ عنہ تھے حاشیہ۔میں اس وقت ایک جوش اپنے قلب میں پاتا ہوں کہ حضرت چودھری صاحب کے اس ابتدائی تعلق کا