حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 20 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 20

حیات احمد جلد دوم حصہ اوّل یہ ایک نمونہ ہے اس اصول کو مدنظر رکھ کر آپ کی تصنیفات کو پڑھنے والا ایک خاص لطف اٹھا سکتا ہے یوں براہین احمدیہ کی تصنیف جو اللہ تعالیٰ کے خاص منشاء اور خاص بشارت کے ماتحت ہوئی یہ بشارت ان ایام اور ان حالات میں دی گئی جب کہ کسی کتاب کی تالیف و تصنیف کا وہم بھی نہیں کر سکتا تھا اور اس پر ایک زمانہ گزر گیا اس عرصہ میں بھی کسی کتاب کی تالیف کا خیال نہیں آیا پھر جن حالات میں براہین تصنیف ہوئی وہ اور بھی اس سلسلہ کے محض ربانی سلسلہ ہونے کے مؤید ہیں۔اور صاف طور پر خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت کا ہاتھ کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔جہاں تک انسانی اسباب اور تدابیر کا تعلق ہے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا کہ براہین جیسی کتاب تصنیف ہو اور طبع ہو کر شائع بھی ہو جائے مگر خدا تعالیٰ نے آپ ہی مسیح موعود کو کھڑا کیا اور آپ ہی اسے اٹھایا اور برومند فرمایا ہے خود کنی و خود کنانی کار را خود دہی رونق تو ہیں بازار را بقیہ حاشیہ:۔جس اشتہار میں آپ نے یہ دعویٰ کیا ہے ترتیب واقعات کے لحاظ سے وہ ۱۸۸۵ء کے واقعات میں آنا چاہیئے لیکن اس امر واقعہ کی تائید و تصدیق کے لئے اسے یہاں ہی دے دینا مناسب ہے کہ حضرت نے براہین احمدیہ مامور و لہم ہو کر لکھی اگر چہ اس اشتہار پر کوئی تاریخ اشاعت درج نہیں مگر دوسرے ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اشتہار ۱۸۸۵ء کے شروع میں لکھا گیا اور فروری ۱۸۸۵ء میں طبع کرانے کے لئے لاہور بھیجا گیا۔اشتہار انگریزی اور اردو میں ۲۰ ہزار چھپایا گیا تھا اس اشتہار کے انگریزی ترجمہ کے لئے منشی الہی بخش اکو نٹنٹ اور پارٹی کے علاوہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھی کہا گیا تھا کہ انتظام کیا جائے۔مولوی نجف علی صاحب چیف کورٹ ( موجودہ ہائی کورٹ ) میں مترجم تھے اس لئے انہوں نے بھی اس ترجمہ میں جُزْءٌ وَكُلا مدد دی۔اور اس کی طباعت کے لئے مولوی محمد حسین صاحب نے انتظامی حصہ لیا۔قادیان سے اس کے چھپوانے کے لئے حضرت مولوی عبد اللہ سنوری رضی اللہ عنہ گئے ہوئے تھے۔وہ اشتہار یہ ہے۔انگریزی ترجمہ جو اس اشتہار کی پشت پر تھا چھوڑ دیا گیا ہے (عرفانی) ہتر جمہ:۔تو آپ ہی سارے کام بتاتا ہے اور آپ ہی کرواتا ہے اور آپ ہی اس بازار کور ونفق دیتا ہے۔