حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 278 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 278

حیات احمد ۲۷۸ محسن قبولی دعا نگر کہ چہ زود دعا قبول سے کم لے جلد دوم حصہ سوم جنوری ۱۸۸۴ء کو الہام ہوا اور ۶ / جنوری ۱۸۸۴ء کو لودہانہ سے میر عباس علی صاحب کا منی آرڈر وصول ہو گیا چنانچہ حضرت اقدس نے ۷ / جنوری ۱۸۸۴ء کو جو خط میر صاحب کو لکھا اس میں صفائی کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا ہے حضرت کا مشرب سلوک اور اس کی تائید میں کشف انہیں ایام اوائل جنوری ۱۸۸۴ء میں آپ نے ایک کشف یا رویا دیکھا جس میں آپ کی روحانی تربیت اور مشرب کی حقیقت بیان کی گئی ہے حضرت نے کتاب البریہ میں اپنے حالات لکھتے ہوئے ایک خاص امر کا تذکرہ فرمایا ہے جو آپ کی روحانی تربیت اور سلوک کے متعلق ہے۔آپ فرماتے ہیں۔ایک طرف ان کا (حضرت والد صاحب) دنیا سے اٹھایا جانا تھا اور ایک طرف بڑے زور وشور سے سلسلہ مکالماتِ الہیہ کا مجھ سے شروع ہوا۔میں کچھ بیان نہیں کر سکتا کہ میرا کونسا عمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنایت الہی شامل حال ہوئی صرف اپنے اندر یہ احساس کرتا ہوں کہ فطرتا میرے دل کو خدا تعالیٰ کی طرف وفاداری کے ساتھ کشش ہے جو کسی چیز کے روکنے سے رک نہیں سکتی سو یہ اُسی کی عنایت ہے۔میں نے کبھی ریاضات شاقہ بھی نہیں کیں اور نہ زمانہ حال کے بعض صوفیوں کی طرح لے ترجمہ۔دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں۔کے حاشیہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ کو اپنے نشانات کے ذیل میں یوں تحریر فرمایا ہے کہ ایک دفعہ ہمیں اتفاقا پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل فقر اور تو کل پر کبھی کبھی ایسی حالت گزرتی ہے اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ تھا سو جب ہم صبح کے وقت سیر کے واسطے گئے تو اس ضرورت کے خیال نے ہم کو یہ جوش دیا کہ اس جنگل میں دعا کریں۔پس ہم نے ایک پوشیدہ جگہ میں جا کہ اس نہر کے کنارہ پر دعا کی جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بٹالہ کی طرف واقع ہے جب ہم دعا کر چکے تو دعا