حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 279
حیات احمد ۲۷۹ جلد دوم حصہ سوم مجاہدات شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا اور نہ گوشہ گزینی کے التزام سے کوئی چلہ کشی کی اور نہ خلاف سنت کوئی ایسا عمل رہبانیت کیا جس پر خدا تعالیٰ کے کلام کو اعتراض ہو بلکہ میں ہمیشہ ایسے فقیروں اور بدعت شعار لوگوں سے بیزار رہا اور جو انواع اقسام 66 کے بدعات میں مبتلا ہیں۔“ کتاب البرتیہ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۵ تا ۱۹۷ حاشیه ) ایسا ہی متعدد مرتبہ آپ نے اس حقیقت کا انکشاف فرمایا ہے کہ آپ کی تربیت روحانی کا رنگ دوسرا ہے جو معروف صوفیوں کے طریق سے بالکل نرالا ہے۔آپ کے اس مشرب کی حقیقت خدا تعالیٰ نے ایک رؤیا کے ذریعہ ظاہر فرمائی جس کے بیان کرنے کے لئے مجھے اس کی صراحت کی ضرورت پیش آئی۔حضرت شروع سے اس امر کو بیان کرتے رہے کہ آپ کا طریق بالکل منہاج نبوت پر ہے گواس کو دوسرے الفاظ میں اور کبھی صراحتا ادا کرتے رہے ہوں۔چنانچہ اس کشف کو لکھتے وقت جو آپ نے ے جنوری ۱۸۸۴ء مطابق سے ربیع الاول ۱۳۰۱ھ کو میر عباس علی صاحب کو تحریر فرمایا۔”انسان کو بغیر راستگوئی چارہ نہیں اور انسان سے خدا تعالیٰ ایسی کوئی بات پسند نہیں کرتا جیسے اُس کی راست گوئی۔اور راست یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس عاجز سے ایک عجیب معاملہ ہے کہ اس جیسے شخص پر اُس کا تفضل اور احسان ہے کہ اپنی ذاتی حالت میں احقر اور ارزلِ عباد ہے۔زُہد سے خالی اور عبادت سے عاری اور معاصی سے پُر ہے۔سو اُس کے تفضلات تحیر انگیز ہیں۔خدا تعالیٰ کا بقیہ حاشیہ: کے ساتھ ہی ایک الہام ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں تب ہم خوش ہو کر قادیان کی طرف واپس آئے اور بازار کا رخ کیا تا کہ ڈاکخانہ سے دریافت کریں کہ آج ہمارے نام کچھ روپیہ آیا ہے یا نہیں چنانچہ ہمیں ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپے لدھیانہ سے کسی نے روانہ کئے ہیں اور غالباً وہ روپیہ اسی دن یا دوسرے دن ہمیں مل گیا۔“ نزول المسیح صفر یم ۲۳۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۱۲) مکتوب اسمی عباس علی صاحب میں اصل الہام جو میں نے متن میں لکھ دیا ہے تحریر فرمایا ہے اور الہام کی تاریخ ۳/ جنوری ۱۸۸۴ء اور اس کے پورا ہونے کی تاریخ ۶ / جنوری ۱۸۸۴ء ہے گویا اسی روز روپیہ وہاں سے روانہ ہو چکا تھا۔(عرفانی)