حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 277
حیات احمد ۲۷۷ جلد دوم حصہ سوم اعتراضات سامنے آئے تو سب کا قلع قمع کر دیا۔اس وقت کا نظارہ قابل دید ہے کہ یہ پہلوان حضرتِ رب جلیل چاروں طرف سے دشمنان اسلام میں گھرا ہوا ہے اور ہر شخص کے حملہ کا جواب ایسی قوت اور ا دلیری کے ساتھ دیتا ہے کہ ان کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور وہ میدان سے بھاگ جاتے ہیں اور واقعات شہادت دیتے ہیں۔چہ ہیبت با بدادند ایں جواں رائے که نائد کس بميدان مــحــمــد مالی مشکلات اور قبول دعا ایک طرف یہ حملے اور ان کا دفاع اور دوسری طرف براہین احمدیہ کی طباعت کے سلسلہ میں مالی مشکلات لیکن خدا تعالیٰ ہر میدان میں آپ کی مدد فرماتا ہے اور جیسا کہ اس نے وعدہ فرمایا تھا آپ کی دعاؤں کو سنتا اور غیب سے ایسے آدمی پیدا کر دیتا ہے جو آمادہ ہو جاتے ہیں گویا آسمان سے فرشتے اُن پر وحی کرتے ہیں۔اور جو شخص ان حالات کا مطالعہ کرے گا اُسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ انسانی تجویز اور دانش کا کام نہیں بلکہ سراسر ربانی نصرت کام کرتی ہے۔الہام الہی ان مشکلات کے ضمن میں پچاس روپے کی سخت ضرورت پیش آئی اور بظاہر اس کے لئے کوئی سامان نہ تھا یہ جنوری کی پہلی یا دوسری ہی تاریخ کا واقعہ ہے۔بعض لوگوں کے سخت تقاضے تھے۔آپ کے پاس بجز دعا کے کوئی حربہ تھا نہیں اور آپ اس بات پر اپنے تجربہ کی بناء پر یقین رکھتے تھے کہ جنگل میں دعا کرنے کا اچھا موقعہ ہوتا ہے اور وہ قبولیت کو جلد حاصل کرتی ہے اس خیال سے آپ نہر کی طرف جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بٹالہ کی طرف ہے تشریف لے گئے اور ایک خلوت کا مقام تجویز کر کے آپ نے وہاں دعا کی اور اور ۳ / جنوری ۱۸۸۴ء کو الہام ہوا۔لے ترجمہ:۔اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمد کے میدان میں کوئی بھی مقابلہ پر ) نہیں آتا۔