حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 276 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 276

حیات احمد ۲۷۶ جنوری و فروری ۱۸۸۴ء جلد دوم حصہ سوم ۱۸۸۴ء کا آغاز جہاں بہت سی برکات اور فضلوں کے ظہور اور آئندہ کی نعمتوں کے مبشر وعدوں پر مشتمل الہامات سے ہوا۔اس کے ساتھ ہی مخالفت کے ایک بے پناہ طوفان میں بھی ایک نئی تحریک پیدا ہو رہی تھی۔جوں جوں قبولیت بڑھ رہی تھی ویسے ہی مخالفین حسد کی آگ میں جل کر مشتعل ہو رہے تھے۔براہین کی چوتھی جلد طبع ہو رہی تھی اور حضرت کو اس کی تکمیل کا بہت خیال تھا آپ چاہتے تھے کہ جلد سے جلد وہ شائع ہو جاوے اس کے لئے بار ہا پا پیادہ بھی تشریف لے جاتے تھے اس لئے کہ آپ ہی مسودہ پر نظر ثانی فرماتے کا پیاں پڑھتے اور پھر پروف دیکھتے مطبع والوں کی بے اعتنائیاں اور وعدہ خلافیاں الگ موجب تکلیف ہوتی تھیں آپ اس وقت اسی جہاد عظیم میں مصروف تھے منکرین اسلام کے اعتراضات کو الگ مد نظر رکھتے تھے یہ امر براہین احمدیہ کے حواشی کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دورانِ طباعت میں بھی اگر کوئی اعتراض کسی اخبار یا رسالہ میں وہ عیسائیوں کا ہو یا آریوں اور برہموؤس کا نظر سے گزرا تو آپ نے اس کے ازالہ کے لئے ایسا علمی حملہ کیا کہ دشمن کا کچھ باقی رہنے نہیں دیا۔چنانچہ پادری عمادالدین پانی پتی کے اعتراضات (جو اس نے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ پر کئے تھے ) کا جواب دیا۔یا پادری ٹھا کر داس کی عدم ضرورت قرآن پر آپ نے بحث فرمائی یا پنڈت دیانند اور پنڈت شونرائن اگنی ہوتری کے لے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پادری عمادالدین امرتسری کے اس اعتراض کا ذکر اور جواب براہین احمدیہ جلد چہارم میں سورہ فاتحہ کی تفسیر میں دیا ہے جو کتاب مذکور کے حاشیہ نمبر 1 میں درج ہے۔پادری عماد الدین کی نقل کر کے باوا نارائن سنگھ وکیل امرتسر نے اپنے رسالہ ودیا پر گا شک میں اُس کو ہرایا چنانچہ آپ فرماتے ہیں ” اس جگہ بعض کو تاہ اندیش اور نادان دشمنوں نے ایک اعتراض بھی بسم اللہ کی بلاغت پر کیا ہے ان معترضین میں ایک صاحب تو پادری عمادالدین نامی ہیں جس نے اپنی کتاب هِدَايَتُ الْمُسْلِمِيْن میں اعتراض کیا ہے، دوسرے صاحب باوا نارائن سنگھ نامی وکیل امرتسری ہیں جنہوں نے پادری کے اعتراض کو سچ سمجھ کر اپنے دلی عناد کے تقاضہ کی وجہ سے وہی پوج اعتراض اپنے رسالہ ودیا پر کا شک میں درج کر دیا ہے۔“ براہین احمدیہ کے اس حاشیہ میں بڑی شرح وبسط سے اس پر بحث کی گئی ہے۔(عرفانی)